کراچی (رپورٹ منیر عقیل انصاری) پیکا ایکٹ کالا قانون ہے‘ حکومت صحافت اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے‘کرپٹ افسران کو تحفظ دینے کیلیے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا ئی جارہی ہے‘ صحافیوں پرسرجیکل ا سڑائیک کی گئی ‘ تفتیشی اداروں کا کردار بڑھا دیا گیا ‘پارلیمان میںبل اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے منظور کیا جاتا ہے،بحث نہیں ہوتی۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاسی رہنما، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی‘ کراچی پریس کلب کے سیکرٹری محمد سہیل افضل خان، عام لوگ اتحاد پارٹی کے رہنما اور عدالت عظمیٰکے سابق جج وجیہ الدین احمد‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری جنرل، سینئر صحافی، معروف شاعر اے ایچ خانزادہ‘ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رہنما، سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس اور ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن کے لیے
کام کرنے والی نگہت داد نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ ’’کیاحکومت پیکا ایکٹ کے ذریعے لوگوں کی آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانا چاہتی ہے؟ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو میڈیا کے حوالے سے قوانین بنانے ہیں تو وہ ڈائیلاگ کا اہتمام کرے، مشترکہ تجاویز کی روشنی میں بل پارلیمان سے قانون پاس کرائے۔ رضا ربانی نے پیکا ایکٹ کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنٹرولڈ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مزید قدغن لگیں گی‘ اب مفاہمت کی جاتی ہے‘ جب بھی پارلیمان کے اندر کوئی بل پیش کیا جاتا ہے اس پر بحث کرنے کے بجائے رسمی طور پر بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے‘ دونوں پارلیمان پر بحث کے بغیر ہی منظور کرلیا جاتا ہے‘ اس عمل کے ذمہ دار صرف سیاست دان ہی نہیں سوسائٹی بھی ہے‘ کیوں کہ ہمارے یہاں مزاحمت کا کلچر ختم ہوچکا ہے‘قانون سازی کے حوالے سے پارلیمان کی وقعت ختم ہوچکی ہے‘ میں صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں پیکا ایکٹ آزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔ سہیل افضل خان کا کہنا ہے کہ پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ترمیمی بل کے نفاذ سے صحافتی آزادی اور سول رائٹس پر کام کرنے والوں پر اثر پڑے گا‘ پیکا بل ہماری توقع سے پہلے ہی پاس ہوگیا ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت قوانین کے لیے الفاظ اچھے استعمال کرتی ہے لیکن الفاظ کی آڑ میں آوازوں پر قدغن لگ گئی ہے‘ بل کو اچانک قومی اسمبلی سے منظور کروانے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے‘ کراچی پریس کلب اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد باقاعدہ تحریک کا آغاز کرے گا جو اس قانون کے واپس لیے جانے تک جاری رہے گی۔ وجیہ الدین احمد نے پیکا ایکٹ کو متنازع قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیم شدہ پیکا ایکٹ سے مسائل مزید بڑھیں گے‘ قانون کا مقصد چند افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن جو باتیں ہوا کرتی تھیں وہ اب بھی ہوں گی‘ پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ایکٹ 2016ء میں ن لیگ کی حکومت لے کر آئی تھی، پھر جب یہ اپوزیشن میں چلے گئے اور زیر عتاب آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے اور کہا کہ حکومت میں آکر اس قانون کو ختم کردیں گے‘ مگر حکومت میں آنے کے بعد پیکا ایکٹ کو مزید بگاڑ دیاگیا۔ اس میں اظہارِ آزادی رائے کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے وعدے کے باوجود صحافیوں سے مشاورت نہیں کی گئی‘ پیکا ایکٹ کا مقصد اداروں کا تحفظ نہیں ہے‘ بلکہ اداروں میں غلط کام کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرتاہے‘ پیکا جیسے قوانین اور انٹرنیٹ بندش سے صرف ملک میں مخالفین کی آواز کو کسی حد تک دبایا جاسکتا ہے‘ 3 سال کی سزائیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں لیکن جو باتیں ہوا کرتی تھیں وہ تو ہوں گی‘ حکومت وہ کام کر رہی ہے جس سے داخلی مسائل کم نہیں ہوں گے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگا۔ اے ایچ خانزادہ کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا رہی ہے‘ ہم پیکا ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں‘ ہم عوام اور میڈیا نمائندگان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ پیکا ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترمیم کا مطلب ہے کہ اب گروپ اور حکومت دونوں اس قانون کو لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس ترمیم میں سب سے پہلے شکایت کرنے والے کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے جس کے مطابق نہ صرف براہ راست متاثر ہونے والا شخص بلکہ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے وہ بھی اس میں شامل ہو گا‘ اس میں اداروں کو بھی شکایت کنندہ کی تعریف میں شامل کر لیا گیا ہے‘ اظہار رائے کے لیے یہ سزا انتہائی سخت اور تشویشناک ہے کیونکہ اس کی تعریف مبہم ہے اور آسانی کے ساتھ اس کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے‘ اس ترمیم سے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے یہ تعین کر سکتی ہے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے اور یہ آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے‘ اس ترمیم کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا پر ہر چیز کو کنٹرول کرے گی یعنی حکومت خود ہی جج ہو گی اور فیصلہ ساز بھی۔ اگر سوچا اور سمجھا جائے تو ایک طرح سے آزادی اظہار رائے کا گلا گھوٹنے کے لیے یہ آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے تحقیقاتی صحافت بری طرح متاثر ہو گی‘ پچھلے 24 گھنٹے میں خیبر سے کراچی تک تمام صحافی بیک آواز پیکا ایکٹ کا قاتل ٹیکہ مسترد کرچکے ہیں۔ دوسری جانب اخباری تنظیمیں‘ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (PBA)‘ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (CPNE) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) نے بھی میڈیا پر اس سرجیکل ا سڑائیک کو سرے سے مسترد کر دیا ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا کو بھی مادر پدر آزادی نہیں ہوناچاہیے بلکہ اس میں ایک ایڈیٹوریل میکینزم ہونا چاہیے، توقع کرتے ہیں حکومت پیکا ایکٹ میں ترامیم کے لیے صحافتی تنظیموں سے رابطے کرے گی۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر بل واپس نہیں لیا تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے اور بھوک ہڑتال کریں گے‘ کالا قانون پہلی بار 2016ء میں لایا گیا تھا‘ کیا ہم پارلیمنٹ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم عدلیہ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دوسرے اداروں کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ ہم صرف اپنے ادارے کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں لہٰذا ہمارے ادارے میں ریگولیٹ کرنے کے نام پر جو پابندی لگائی جا رہی ہے وہ ناقابل قبول ہے‘ حکومت نے اس قانون پر ہم سے بات چیت نہیں کی ہے‘2 گھنٹے پہلے ہم سے رابطہ کیاتھا۔ نگہت داد کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ میں جن چیزوں پر اعتراض کیا گیا تھا اب ان میں مزید اضافہ کیا گیا ہے‘ تفتیشی اداروں کا کردار بڑھا دیا گیا ہے، جوائنٹ انکوائریز کی اجازت دے دی گئی ہے‘ پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق عالمی اداروں کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں، اس کی موجودگی میں شخصی آزادی پر قدغن کیسے لگائی جاسکتی ہے‘ کس طرح سوشل میڈیا کو بند کیا جاسکتا ہے‘ فیک نیوز یا پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے حکومت نے کس اسٹیک ہولڈر سے بات کی؟ کس صحافی کو اعتماد میں لیا؟ ایسی قانون سازی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا زادی اظہار رائے کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کو پیکا ایکٹ کا سوشل میڈیا کہ حکومت میڈیا کو جاتا ہے کے لیے گئی ہے ہے اور کیا جا گیا ہے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل