پیکا ایکٹ کالاقانون ہے،حکومت صحافت اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
کراچی (رپورٹ منیر عقیل انصاری) پیکا ایکٹ کالا قانون ہے‘ حکومت صحافت اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے‘کرپٹ افسران کو تحفظ دینے کیلیے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا ئی جارہی ہے‘ صحافیوں پرسرجیکل ا سڑائیک کی گئی ‘ تفتیشی اداروں کا کردار بڑھا دیا گیا ‘پارلیمان میںبل اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے منظور کیا جاتا ہے،بحث نہیں ہوتی۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاسی رہنما، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی‘ کراچی پریس کلب کے سیکرٹری محمد سہیل افضل خان، عام لوگ اتحاد پارٹی کے رہنما اور عدالت عظمیٰکے سابق جج وجیہ الدین احمد‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری جنرل، سینئر صحافی، معروف شاعر اے ایچ خانزادہ‘ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رہنما، سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس اور ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن کے لیے
کام کرنے والی نگہت داد نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ ’’کیاحکومت پیکا ایکٹ کے ذریعے لوگوں کی آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانا چاہتی ہے؟ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو میڈیا کے حوالے سے قوانین بنانے ہیں تو وہ ڈائیلاگ کا اہتمام کرے، مشترکہ تجاویز کی روشنی میں بل پارلیمان سے قانون پاس کرائے۔ رضا ربانی نے پیکا ایکٹ کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنٹرولڈ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مزید قدغن لگیں گی‘ اب مفاہمت کی جاتی ہے‘ جب بھی پارلیمان کے اندر کوئی بل پیش کیا جاتا ہے اس پر بحث کرنے کے بجائے رسمی طور پر بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے‘ دونوں پارلیمان پر بحث کے بغیر ہی منظور کرلیا جاتا ہے‘ اس عمل کے ذمہ دار صرف سیاست دان ہی نہیں سوسائٹی بھی ہے‘ کیوں کہ ہمارے یہاں مزاحمت کا کلچر ختم ہوچکا ہے‘قانون سازی کے حوالے سے پارلیمان کی وقعت ختم ہوچکی ہے‘ میں صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں پیکا ایکٹ آزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔ سہیل افضل خان کا کہنا ہے کہ پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ترمیمی بل کے نفاذ سے صحافتی آزادی اور سول رائٹس پر کام کرنے والوں پر اثر پڑے گا‘ پیکا بل ہماری توقع سے پہلے ہی پاس ہوگیا ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت قوانین کے لیے الفاظ اچھے استعمال کرتی ہے لیکن الفاظ کی آڑ میں آوازوں پر قدغن لگ گئی ہے‘ بل کو اچانک قومی اسمبلی سے منظور کروانے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے‘ کراچی پریس کلب اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد باقاعدہ تحریک کا آغاز کرے گا جو اس قانون کے واپس لیے جانے تک جاری رہے گی۔ وجیہ الدین احمد نے پیکا ایکٹ کو متنازع قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیم شدہ پیکا ایکٹ سے مسائل مزید بڑھیں گے‘ قانون کا مقصد چند افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن جو باتیں ہوا کرتی تھیں وہ اب بھی ہوں گی‘ پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ایکٹ 2016ء میں ن لیگ کی حکومت لے کر آئی تھی، پھر جب یہ اپوزیشن میں چلے گئے اور زیر عتاب آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے اور کہا کہ حکومت میں آکر اس قانون کو ختم کردیں گے‘ مگر حکومت میں آنے کے بعد پیکا ایکٹ کو مزید بگاڑ دیاگیا۔ اس میں اظہارِ آزادی رائے کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے وعدے کے باوجود صحافیوں سے مشاورت نہیں کی گئی‘ پیکا ایکٹ کا مقصد اداروں کا تحفظ نہیں ہے‘ بلکہ اداروں میں غلط کام کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرتاہے‘ پیکا جیسے قوانین اور انٹرنیٹ بندش سے صرف ملک میں مخالفین کی آواز کو کسی حد تک دبایا جاسکتا ہے‘ 3 سال کی سزائیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں لیکن جو باتیں ہوا کرتی تھیں وہ تو ہوں گی‘ حکومت وہ کام کر رہی ہے جس سے داخلی مسائل کم نہیں ہوں گے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوگا۔ اے ایچ خانزادہ کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا رہی ہے‘ ہم پیکا ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں‘ ہم عوام اور میڈیا نمائندگان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ پیکا ایکٹ میں کی گئی حالیہ ترمیم کا مطلب ہے کہ اب گروپ اور حکومت دونوں اس قانون کو لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس ترمیم میں سب سے پہلے شکایت کرنے والے کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے جس کے مطابق نہ صرف براہ راست متاثر ہونے والا شخص بلکہ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے وہ بھی اس میں شامل ہو گا‘ اس میں اداروں کو بھی شکایت کنندہ کی تعریف میں شامل کر لیا گیا ہے‘ اظہار رائے کے لیے یہ سزا انتہائی سخت اور تشویشناک ہے کیونکہ اس کی تعریف مبہم ہے اور آسانی کے ساتھ اس کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے‘ اس ترمیم سے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے یہ تعین کر سکتی ہے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے اور یہ آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے‘ اس ترمیم کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا پر ہر چیز کو کنٹرول کرے گی یعنی حکومت خود ہی جج ہو گی اور فیصلہ ساز بھی۔ اگر سوچا اور سمجھا جائے تو ایک طرح سے آزادی اظہار رائے کا گلا گھوٹنے کے لیے یہ آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے تحقیقاتی صحافت بری طرح متاثر ہو گی‘ پچھلے 24 گھنٹے میں خیبر سے کراچی تک تمام صحافی بیک آواز پیکا ایکٹ کا قاتل ٹیکہ مسترد کرچکے ہیں۔ دوسری جانب اخباری تنظیمیں‘ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (PBA)‘ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (CPNE) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) نے بھی میڈیا پر اس سرجیکل ا سڑائیک کو سرے سے مسترد کر دیا ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا کو بھی مادر پدر آزادی نہیں ہوناچاہیے بلکہ اس میں ایک ایڈیٹوریل میکینزم ہونا چاہیے، توقع کرتے ہیں حکومت پیکا ایکٹ میں ترامیم کے لیے صحافتی تنظیموں سے رابطے کرے گی۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر بل واپس نہیں لیا تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے اور بھوک ہڑتال کریں گے‘ کالا قانون پہلی بار 2016ء میں لایا گیا تھا‘ کیا ہم پارلیمنٹ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم عدلیہ کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دوسرے اداروں کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں؟ ہم صرف اپنے ادارے کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں لہٰذا ہمارے ادارے میں ریگولیٹ کرنے کے نام پر جو پابندی لگائی جا رہی ہے وہ ناقابل قبول ہے‘ حکومت نے اس قانون پر ہم سے بات چیت نہیں کی ہے‘2 گھنٹے پہلے ہم سے رابطہ کیاتھا۔ نگہت داد کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ میں جن چیزوں پر اعتراض کیا گیا تھا اب ان میں مزید اضافہ کیا گیا ہے‘ تفتیشی اداروں کا کردار بڑھا دیا گیا ہے، جوائنٹ انکوائریز کی اجازت دے دی گئی ہے‘ پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق عالمی اداروں کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں، اس کی موجودگی میں شخصی آزادی پر قدغن کیسے لگائی جاسکتی ہے‘ کس طرح سوشل میڈیا کو بند کیا جاسکتا ہے‘ فیک نیوز یا پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے حکومت نے کس اسٹیک ہولڈر سے بات کی؟ کس صحافی کو اعتماد میں لیا؟ ایسی قانون سازی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا زادی اظہار رائے کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کو پیکا ایکٹ کا سوشل میڈیا کہ حکومت میڈیا کو جاتا ہے کے لیے گئی ہے ہے اور کیا جا گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش