بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر امن کی تلاش میں لاہور کا سفر کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وزیراعظم بنے تو پاکستان کو حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنا ایک بڑا قدم تھا۔

مودی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے عوام بھی امن چاہتے ہیں، لیکن ان کی حکومت نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے اور وہ کسی بھی کھیل کو بدنام ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسری جانب، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے تحت حل طلب ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر تعمیری مذاکرات کا حامی رہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے اور تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے، لیکن بھارت کو بھی اپنے اقدامات پر غور کرنا ہوگا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ