میئر استنبول اکرم امام گرفتار، عوام سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے بڑے سیاسی حریف اور استنبول کے میئر اکرم امام اعولو کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اکرم امام اعولو چند دن بعد ترک صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پیپلز پارٹی کے امیدوار نامزد ہونے والے تھے۔
اکرم امام کو بدھ کی صبح ترک پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان پر کرپشن اور ایک دہشتگرد گروہ کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تحقیقات کے دوران 100 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سیاستدان، صحافی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اکرم امام نے اپنی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
کئی شہروں میں مظاہرےاکرم امام کی گرفتاری کے بعد ترکیہ میں شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ استنبول، انقرہ اور دیگر شہروں میں سڑکوں، یونیورسٹی کیمپسز اور ٹرین اسٹیشنوں پر عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔
استنبول میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
حکومت نے 4 روزہ پابندیاں نافذ کر دی ہیں جن کے تحت عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ امام اعولو کو صدارتی دوڑ سے باہر کرنے کی سازش ہے۔
ملک میں سوشل میڈیا سروس متاثرمیئر استنبول کی گرفتاری کے فوراً بعد ترکیہ میں سوشل میڈیا سروسز میں خلل آنا شروع ہو گیا اور صارفین کو رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اکرم امام کی ڈگری منسوخمزید برآں میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اکرم امام اعولو کی یونیورسٹی ڈگری بھی منسوخ کر دی گئی ہے جس کے بعد ان کی صدارتی نامزدگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ترکیہ میں صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور اس گرفتاری کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر اردوان کی حکومت کے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترکیہ رجب طیب اردوان میئر استبول اکرم امام اعولو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترکیہ رجب طیب اردوان میئر استبول اکرم امام اعولو اکرم امام اعولو کے بعد
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔