Express News:
2026-07-24@13:21:47 GMT

قومی سلامتی معاملات اور پی ٹی آئی

اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT

قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اہم اجلاس سے بائیکاٹ کو پی ٹی آئی رہنما درست قرار دیتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کرنا بالکل ٹھیک تھا جس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ پی ٹی آئی کی سیاست کے عین مطابق ہے اور یہی جماعت ایک سزا یافتہ قیدی سے ملاقات کی ضد کو 93 ہزار پاکستانیوں کا خون پینے والی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر ترجیح دے رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی پی ٹی آئی کی طرف سے اجلاس میں شریک نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کر چکے ہیں۔

 پی ٹی آئی کے ایک سابق رہنما فیصل واؤڈا نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت کو ان کی بڑی غلطی قرار دیا ہے کہ ان کا بائیکاٹ کا فیصلہ عجیب فیصلہ تھا کیونکہ مذکورہ اجلاس سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کے لیے نہیں بلکہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے خاتمے کے حل کے لیے تھا جہاں پی ٹی آئی کو بھی آ کر اپنی بات کرنی چاہیے تھی اور اجلاس کے شرکا کو اس سلسلے میں اپنے موقف اور تجاویز سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی پی ٹی آئی کے بائیکاٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے مجھ سے پوچھتے تو میں انھیں اجلاس میں شریک ہونے کا ہی مشورہ دیتا۔ پی ٹی آئی کو اس اہم اجلاس میں نہ دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے بھی اپنی پارٹی کے فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی میری بغیر اجازت اجلاس میں کیسے شریک ہو سکتی تھی۔ بانی کے بائیکاٹ کے فیصلے کو درست قرار دینے میں تو کسی کو حیرت نہیں مگر حیرت اس بات پر ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اجلاس میں عدم شرکت کا فیصلہ کیسے اورکس کے کہنے پر کیا تھا۔ اجلاس میں شرکت کے معاملے پر پی ٹی آئی اور اس کے حلیفوں کے بیانات بھی مختلف تھے۔

بعض رہنما شرکت کے حامی اور بعض مخالف تھے اور پی ٹی آئی کی طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے 14 ارکان کی ایک فہرست بھی بھیجی گئی تھی، جن کو اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر اس فہرست میں کے پی کے پی ٹی آئی صدر جنید اکبر کا نام حیرت انگیز طور پر شامل نہیں تھا کہ جنھوں نے تمام سیاسی رہنماؤں کو اپنے بانی کے مقابلے میں زیرو قرار دیا تھا۔

پہلے اہم اجلاس میں شرکت کی حامی بھرنے والی پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے بعدازاں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت سے ہی انکار کر دیا اور ان کے بائیکاٹ کے فیصلے کی حمایت بانی نے بعد میں جیل آ کر ملنے والوں سے ملاقات میں کی۔ مولانا فضل الرحمن اور سینیٹر ایمل ولی حکومت کے حامی نہیں مگر دونوں رہنماؤں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہارکیا اور شرکا کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور اجلاس میں موجود سیاسی و فوجی قیادت نے دونوں رہنماؤں کا خطاب بھی سنا۔پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی پی ٹی آئی کی طرف سے اجلاس میں عدم شرکت پر اپنے رد عمل میں کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم تھے تو انھوں نے بطور وزیر اعظم کسی پارلیمانی سیکیورٹی اجلاس میں کبھی شرکت نہیں کی تھی۔ موجودہ اجلاس ملک کو درپیش دہشت گردی کے اہم مسئلے پر تھا یہ اجلاس کشمیر یا بھارتی جارحیت پر نہیں تھا جس میں شرکت موجودہ قومی ملکی صورت حال کا تقاضا تھا۔ ملک میں اس وقت دہشت گردی کی وجہ سے جنگ جیسی صورت حال ہے اس وقت سیاست سے بالاتر ہو کر ملک کو اولین ترجیح دینا ہر پاکستانی کی حب الوطنی کا تقاضا ہے۔

کے پی حکومت کے مشیر اطلاعات ایک بیرسٹر ہیں اور جنرل پرویز کے وزیر اور ایم کیو ایم کے سینیٹر رہے ہیں جنھوں نے سوال کیا ہے کہ بتائیں کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیوں کیا؟ نواز شریف کی طرف سے اجلاس میں عدم شرکت کی وجوہ مسلم لیگ (ن) کو بتانا چاہیے تھیں تاکہ سیاسی مخالفین کو جواب مل جاتا۔ نواز شریف چاہتے تو اپنے بھائی وزیر اعظم کو مذکورہ اجلاس سے ہی روک سکتے تھے اگر وہ علیل نہ ہوتے تو اجلاس میں ضرور آتے مگر بیماریوں پر بھی سیاست کرنا پی ٹی آئی کا پرانا وتیرہ رہا ہے، اس لیے بیرسٹر سیف نے نواز شریف کی عدم شرکت کو بائیکاٹ قرار دے دیا۔یہ درست عمل نہیں کہ پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کو نواز شریف سے جوڑ دیا گیا۔ اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ کی طرح وزیر اعلیٰ مریم نواز موجود تھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے پی موجود تھے جنھوں نے اجلاس میں مجوزہ آپریشن کی مخالفت کی نہ حمایت۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اول و آخر بانی پی ٹی آئی ہیں۔ پی ٹی آئی نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ دہشت گردی روکنے کے لیے وہ آپریشن کے حق میں نہیں ہے حالانکہ پی ٹی آئی حکومت میں اگر تقریباً چار ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا اگر ایسا نہ ہوتا تو دہشت گردی نہ ہوتی۔ پی ٹی آئی اسی وجہ سے اجلاس میں نہیں آئی کیونکہ ان کے نزدیک ملک کی نہیں بانی کی اہمیت ہے۔

 یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کی پالیسی ملک کے خلاف رہی ہے جس کے رہنما اس سلسلے میں متنازعہ بیانات بھی دیتے رہے ہیں اپنے ہٹائے جانے کے بعد خود بانی نے کہا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے پی ٹی آئی کا جو کردار تھا اس کے بعد یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سلامتی کو کیوں اہمیت دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کی طرف سے قومی سلامتی کمیٹی کمیٹی کے اجلاس ہے کہ پی ٹی آئی اجلاس میں شرکت سے اجلاس میں پی ٹی آئی کے پی ٹی آئی کا کا بائیکاٹ کے بائیکاٹ نواز شریف عدم شرکت کے لیے نے بھی

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ