آئی پی ایل؛ یشسوری جیسوال کو بھی غیرملکی گرل فرینڈ مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں راجھستان رائلز کی نمائندگی کرنیوالے نوجوان بھارتی اوپنر یشسوی جیسوال کو بھی غیر ملکی گرل فرینڈ مل گئی۔
گزشتہ روز مہاراجہ یادویندر سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے آئی پی ایل 2025 کے میچ کے دوران یشسوی جیسوال کی برطانوی گرل فرینڈ میڈی ہیملٹن اپنی طرف توجہ مبذول کروائی جب وہ کرکٹر کی بیٹنگ پر انہیں سراہا رہیں تھی۔
مزید پڑھیں: "ٹیم بناؤ پیسے کماؤ! وکٹ تو چہل لے ہی لے گا"
اس میچ میں یشسوی جیسوال نے 45 گیندوں پر برق رفتار 67 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 5 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے، راجھستان رائلز نے پنجاب کنگز کیخلاف فتح بھی سیمیٹی۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل؛ ٹکٹوں کیلئے فرنچائز کو بلیک میل کیے جانے کا انکشاف
میچ کے دوران میڈی ہیملٹن نے راجھستان رائلز کی جرسی پہن رکھی تھی اور ٹیم کو سپورٹ کررہیں تھی۔
میڈی ہیملٹن کون ہیں؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یشسوی اور میڈی کے درمیان تعلقات کی افواہیں 3 سال سے گردش کر رہی ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ وہ آئی پی ایل میں کرکٹر کی بیٹنگ کیلئے آئیں تھی۔
مزید پڑھیں: "کیا ملائیکہ اروڑا، سنگاکارا کی قربیتں بڑھ رہی ہیں"
انسٹاگرام پر وائرل پوسٹ میں یشسوی نے حال ہی میں میڈی اور انکے بھائی ہنری کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کچھ رشتے ہمیشہ کیلئے ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔