اسلام ٹائمز: عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور دہشت گردی کے تناظر میں سیاسی اپوزیشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے صوبے کی صورتحال کو انتہائی ناگفتہ بہ بنا دیا ہے۔ ایک ٹوٹی پھوٹی صوبائی حکومت جس کی قانونی حیثیت بھی سوالیہ ہے وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے، جو صورت حال کو صرف ’سیکیورٹی لینس‘ سے دیکھتی ہے۔ یہ ریاست کے لوگوں کے دل و دماغ سے محروم ہونے کی بڑی وجہ رہی ہے۔ یہ یقینی طور پر دہشت گرد گروہوں کو زیادہ استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ تحریر: زاہد حسین

گزشتہ کئی ہفتوں سے بلوچستان میں نظام زندگی معطل ہے، صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی بیشتر شاہراہیں مظاہرین نے بند کی ہوئی ہیں، جبکہ موبائل فون سروسز معطل ہیں۔ کوئٹہ جو کہ صوبائی دارالحکومت ہے، تقریباً محصور ہوچکا ہے اور انتظامیہ مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جن کی قیادت اختر مینگل کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریاست کی حاکمیت کا مکمل طور پر خاتمہ دکھائی دے رہا ہے۔ حتیٰ کہ اختر مینگل اور دیگر بلوچ قوم پرست جیسے رہنما جو کبھی عوام اور ریاست کے درمیان آخری رابطہ سمجھے جاتے تھے، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی عمل پر سے اعتماد ختم ہورہا ہے۔ سابق صوبائی وزیر اعلیٰ جو کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے اپنے دھڑے کے سربراہ ہیں، چند ماہ قبل پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور انہوں نے بلوچستان کے عوام کو درپیش ’عدم تحفظ‘ پر پارلیمنٹ کی بے حسی کو وجہ قرار دیا تھا۔ وہ حال ہی میں یو اے ای سے واپس آئے، جہاں وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کے بعد مقیم تھے اور بلوچستان میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی حالیہ لہر کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ’لانگ مارچ‘ کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ مارچ اب کئی دیگر قوم پرست جماعتوں اور مرکزی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل چکا ہے۔ ریاستی زیادتیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے نے بلوچ نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کی حمایت کی طرف مائل کر دیا ہے۔ یہ پریشان کن رجحان قوم پرست جماعتوں کو مکمل طور پر غیر متعلق بنا سکتا ہے۔

ایسی صورت حال میں ریاست کے پاس کوئی بات کرنے کے لئے نہیں بچے گا لیکن اسلام آباد اور راولپنڈی میں اقتدار کی راہداریوں میں حالات کی سنگینی کا کوئی ادراک نہیں۔ اس کے بجائے، ہم معقول آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے زبردستی طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور انہیں جمہوری راستہ ترک کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور دہشت گردی کے تناظر میں سیاسی اپوزیشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے صوبے کی صورتحال کو انتہائی ناگفتہ بہ بنا دیا ہے۔ ایک ٹوٹی پھوٹی صوبائی حکومت جس کی قانونی حیثیت بھی سوالیہ ہے وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے، جو صورت حال کو صرف ’سیکیورٹی لینس‘ سے دیکھتی ہے۔ یہ ریاست کے لوگوں کے دل و دماغ سے محروم ہونے کی بڑی وجہ رہی ہے۔ یہ یقینی طور پر دہشت گرد گروہوں کو زیادہ استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ صوبہ بھر میں ہائی پروفائل دہشت گردانہ حملوں کی حالیہ لہر بھی ریاست کے کنٹرول کھونے کا ثبوت ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق صوبے کے 20 اضلاع اب عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیاسی بے امنی سے متاثر ہیں۔ انتظامیہ کے خاتمے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صوبائی کابینہ کے کچھ وزرا بھاری سیکیورٹی کے باوجود اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے۔ ایک مسافر ٹرین کی حالیہ ہائی جیکنگ اور صوبے کے مختلف حصوں میں بیک وقت دہشت گردانہ حملے عسکریت پسند گروپوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو واضح کرتے ہیں۔ یہ مقامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے کریک ڈاؤن ان گروہوں کو مزید بھرتیاں فراہم کرتا ہے۔ خواتین جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے بلوچ عسکریت پسندی کو مزید مہلک بنادیا ہے۔ خواتین خودکش حملہ آوروں کے دہشت گردانہ حملے کرنے کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں، خاص طور پر سیکیورٹی اہداف پر۔ خواتین بھی حقوق کی تحریک کی قیادت کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو حقوق کی تحریک کو مشعل راہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر خواتین جو اب حقوق کی تحریک کی قیادت کر رہی ہیں ان کی اپنی کہانیاں ہیں کہ ان کے خاندان کے افراد ریاستی جبر کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ بلوچ مزاحمتی قیادت کی نئی نسل کے ابھرنے نے پرانے محافظ کو سیاسی طور پر غیر متعلق کر دیا ہے۔ ریاست کو اب ان سے نمٹنا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبے میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔

بلوچستان میں اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ کئی دہائیوں سے جاری ریاستی بدانتظامی، نظر انداز کرنے اور لوگوں کو ان کے بنیادی سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم کرنے کا نتیجہ ہے۔ بڑھتی ہوئی بیگانگی اور بڑھتا ہوا علیحدگی، عسکریت پسند تشدد ہماری حکمران اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے نوآبادیاتی طریقوں اور ذہنیت کا ردعمل لگتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو پانچویں بلوچ بغاوت کا سامنا ہے۔ اس سے قبل 1948ء، 59-1958ء، 63-1962ء، اور 77-1973ء میں چار بغاوتیں ہو چکی ہیں۔ مگر اس مرتبہ باغی زیادہ تیار دکھائی دیتے ہیں اور ان کے پاس جدید ترین ہتھیار اور جدید مواصلاتی نظام موجود ہے۔ آخری بغاوت کے بعد صوبہ نسبتاً مستحکم رہا اور 1988ء میں جمہوریت کی بحالی کے نتیجے میں بلوچ قوم پرست قومی دھارے میں آئے۔ اگرچہ قدرتی گیس کی رائلٹی اور صوبے کے قدرتی وسائل کے حوالے سے ان کے بہت سے مطالبات پورے نہیں ہوئے لیکن جمہوری حکمرانی نے بلوچوں کو سیاسی شرکت کا احساس فراہم کیا۔ کشیدگی 2003ء میں بڑھنا شروع ہوئی جب مشرف حکومت نے صوبے میں تین نئی چھاؤنیوں کے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ خیال مقامی سیاسی قوتوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی تعیناتی نے عدم اطمینان کو مزید ہوا دی۔

بلوچستان میں، یہاں تک کہ امن و امان کی دیکھ بھال بھی زیادہ تر وفاق کے زیر کنٹرول نیم فوجی دستوں کے پاس ہے۔ اس نے دیگر معاملات کے علاوہ صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ صوبائی حکومت جسے اسٹیبلشمنٹ نے سہارا دیا ہے، کوئی حقیقی طاقت نہیں رکھتی۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور احتجاج کو ’ویک اپ کال‘ کے طور پر لیا جائے گا اور اس سے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر سیاسی حل تلاش کرنے پر مجبور ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بجائےحکومت نے ایک ”سخت ریاستی“ کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر داخلہ کر رہے ہیں۔ اب یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ ’سخت ریاست‘ کا اصل مطلب کیا ہے اس کے بارے میں کئی سوالات ہیں جن کے جواب نہیں۔ ریاست کو صرف تب ہی مضبوط بنایا جا سکتا ہے جب لوگوں کے عدم اطمینان کے اسباب کو ختم کیا جائے، نہ کہ کوئی دکھاوا کیا جائے۔ ہم صرف اُمید ہی کر سکتے ہیں کہ بہتر فیصلے کیے جائیں، اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔

اصل تحریر:
https://www.

dawn.com/news/1903059/the-states-failure

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بڑھتے ہوئے کر رہے ہیں کر دیا ہے کی قیادت ریاست کے کو مزید نے بلوچ کے خلاف کرنے کے کے ساتھ اور ان حال کو کے پاس کے لیے

پڑھیں:

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار

بشکیک(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔

پشاور ؛ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی لڑکے کا قتل، مقدمہ درج

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔

’بچے بہت پسند ہیں لیکن ماں نہیں بن سکتی‘، انایا بنگر نے جنس کی تبدیلی کے بعد اہم حقیقت بتا دی

اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔

انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔

  مزید مون سون بارشوں اور بعض شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر پنجاب بھر میں احتیاطی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایات 

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار