لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 42منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔ اپوزیشن ارکان  ایوان میں شدید نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئے، بانی پی ٹی آئی کی تصاویر تھام رکھی تھیں۔ اجلاس کے آغاز پر وزیر قانون صہیب بھرتھ کے چچا کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے حکومتی رکن امجد علی  جاوید نے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس والے شکوہ کناں ہیں ان کی بات سنیں، گرینڈ ہیلتھ الائنس کو باہر بیٹھے دس دن ہو گئے ہیں، متعلقہ وزیر ایوان میں آکر بتائیں۔ پیپلز پارٹی کے ممتاز چانگ نے کہا کہ جیسی بھی جمہوری حکومت ہے پولیس نے ٹینٹ اکھاڑ دیے، خواتین اگر اپنے حقوق کیلئے بیٹھی ہیں تو بیٹھنے دیا جائے۔ جواب میں  پارلیمانی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ محکمہ صحت اور حکومت کی سطح پر بھی کمیٹی بنی ہوئی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے کیمپ نہیں اکھاڑنے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کی نیلم جبار  نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے جائز مطالبات حق ہیں ان کا حق دیا جائے۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان کو گرینڈ ہیلتھ الائنس کے معاملات حل کرنے یقین دہانی کرائی۔ صنعت و تجارت و انڈسٹریز کے حوالے سے وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن امجد علی جاوید نے فیڈمک انڈسٹریل اسٹیٹ کے تین زیر تعمیر منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ21سال ہو گئے ہیں فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ مینجمنٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ویلیو ایڈیشن سٹی، ایم تھری انڈسٹریل سٹی اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی نامکمل ہے، منصوبہ پر پہلے دس لاکھ لگنا تھے اب اس پر دس کروڑ روپے لگیں گے کون ذمہ دار ہوگا۔ پارلیمانی سیکرٹری حسن عسکری نے ایوان کو بتایا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا انفراسٹرکچر 25فیصد اور باؤنڈری وال سو فیصد مکمل ہو گئی ہے، انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام موٹروے کے اوپر ضروری تھا۔ لیبر کالونی خود بھی رولز میں ترمیم کرکے آفر کررہے ہیں جو فیصل آباد میں انڈسٹری لگ رہی ہے انہیں لیبر کالونی کی اجازت دیدی ہے۔ فیڈمک میں ساڑھے چودہ ایکڑ زمین لیبر کالونی کیلئے آفر کی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ 14کارخانوں کی ایک سال میں 6 لاکھ 33ہزار 260موٹرسائیکلیں اور 54ہزار کاریں پیداوار ہیں جس میں چار ہزار پانچ سو نناوے ملازمین کام کرتے ہیں، ہر انڈسٹری کو مختلف کیٹیگری میں الگ الگ این او سی دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر بھچر نے کہا  ہمیں اڈیالہ کغ باہر قیدیوں کی وین میں بٹھا دیا گیا، ہم کیا دہشتگرد ہیں۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے جارحانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں آر ٹی ایس ہم نے نہیں بٹھایا، ہم تو دو تہائی اکثریت سے جیت رہے تھے، بانی کو الیکشن چوری کرکے وزیر اعظم بنایا گیا۔ پنجاب میں ہماری اکثریت تھی، عثمان بزدار ن لیگ سے 2018ء میں پی ٹی آئی میں توڑ کر لے جایا گیا، آپ نے ریاست و پاکستان پر حملہ کیا، بھارتی چینلز نے تعریفیں کیں، جو آپ کے لیڈر نے کیا وہ بھارت نہ کر سکا، قومی و صوبائی اسمبلی میں بیٹھے ہیں، اگلی بار فیض حمید کے فیضیاب ہونے والوں کے نام بتاؤں گا، ہمارے جتنے لیڈر  جیل میں گئے رویا کوئی نہیں۔ شہبازشریف، حمزہ، مریم، رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق جیل گئے۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچرنے  کہا کہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے تسلیم کر لیا کہ اٹھارہ میں جو کچھ کیا وہ سب کچھ کررہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کا کردار کسی شکل میں نظر انداز نہ ہوا، اس بار حدیں کراس ہوئی ہیں، یہ بتا دیں اڈیالہ جیل ان کے اختیار میں ہے یا نہیں یہ تو ڈیل کرکے باہر چلے جاتے تھے، نو مئی کا وہی جرم ہے جس نے پریس کانفرنس کی وہ دودھ کا دھلا جس نے نہیں کی وہ مقدمات بھگت رہا ہے۔  ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کا کہنا تھا کہ ملاقات ہوئی تھی یا نہیں تسلیم کریں۔ سپیکر نے آپ کے ایک ایک ممبر کو طاقتور کیا۔ پی اے سی کے چیئرمین بننے کیلئے کوئی اختلاف نہیں تھا، آپ اپنی مرضی سے پنجاب کے افسران کو بلاتے ہیں تو پنجاب کی عوام دیکھتی ہے جس پر ملک محمد احمد خان کا کردار ہے، ممتاز چانگ کا کہنا تھا کہ جو اپوزیشن لیڈر کے ساتھ زیادتی ہوئی اس کی مذمت کرتے ہیں، ہمارے ساتھ ہمیشہ زیادتیاں کی گئیں ہم انتقامی سیاست سے دور ہو گئے۔ اپوزیشن رکن شیخ امتیاز نے ایوان میں پری بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک میں نو ارب رکھے تھے جبکہ خرچ ستانوے کروڑ کیے گئے، ٹیکس ریسیو کرنے میں یہ حکومت ناکام رہی ہے، سپیکر صاحب کوئی ایسا کلیہ بنائیں بیوروکریسی یہاں آ کر بیٹھیں، وزراء یہاں آکر بیٹھیں اور ہمیں جواب دیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔ ممتاز علی چانگ نے کہا کہ ایگری کلچر میں دیگر صوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے اگر کسانوں سے گندم خرید لیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ تعلیم پر اربوں کا بجٹ رکھا گیا لیکن رحیم یار خان میں میرے حلقے میں نہ گرلز کالج ہے نہ کوئی سکول ہے۔ اگلے بجٹ میں ہمارے علاقے میں تعلیمی ادارے بنا دیں۔ اری گیشن میں پچاس کیوسک سے زیادہ نہریں پختہ ہو رہی ہیں لیکن میرے علاقے میں ایک بھی پختہ نہر نہیں بنائی گئی۔ امن وامان پر بہت پیسہ خرچ ہوا ہے لیکن کچے میں امن و امان کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ صحت کے شعبہ پر پیسے لگنے چاہئیں۔ بیس سال پہلے ایچ یوز پر رنگ روغن ہوتا ہے۔ بنایا ہی نہیں جاتا، حکومتی چیف وہپ رانا محمد ارشد نے کہا کہ ہمارا ڈویلپمنٹ بجٹ مثالی بجٹ ہے، اپوزیشن نے آج بھی پری پلان بائیکاٹ کردیا حالانکہ آج بجٹ پر اہم اجلاس ہے۔ چیف منسٹر نے جو سڑکوں کے منصوبے دئیے تھے وہ سب مکمل ہو گئے ہیں۔ ہیلتھ میں او پی ڈی میں چوبیس گھنٹے دوائیاں مل رہی ہیں۔ مریم نواز نے پنجاب کی سڑکوں کیلیے جو پلان بنایا آج اسے مکمل کیا، زمیندار کو ایک ایکٹر پر تیس ہزار روپے دیئے جسے بڑھاکر پچاس ہزار روپے کردیا گیا ہے، ساڑھے بارہ سو بی ایچ یوز کو اپ گریڈ کیاگیا جہاں بیٹھنا محال تھا، نواز شریف کینسر ہسپتال آخری مراحل میں ہے، جو باتوں سے نہیں کام کرکے مکمل ہو رہا ہے،حکومت نے 5446ارب روپے کا مثالی بجٹ پیش کیا، پچپن ارب روپے کی بجلی پر سبسڈی دی گئی، یہ نو مئی والے ہیں  حکومتی رکن راجہ شوکت بھٹی نے  کہا کہ ان کے سیاسی کارناموں کی وجہ سے ملک بہت پیچھے چلا گیا، اگر ان سے حکومت نہ لی جاتی تو خدا نہ کرے پاکستان نہ بچتا، انہوں نے آخری جوا 9مئی کو کھیلا انہوں نے اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر پینل آف چئیرپرسن سمیع اللہ خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس  سوموار دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گرینڈ ہیلتھ الائنس کے شجاع الرحمن نے ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے نے کہا کہ مکمل ہو ہو گئے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی