عمران خان کو معدنی وسائل ایکٹ پر تحفظات، وزیراعلی علی امین گنڈا پور کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
عمران خان کو معدنی وسائل ایکٹ پر تحفظات، وزیراعلی علی امین گنڈا پور کو طلب کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے شیر افضل مروت کے بیانات اور معدنی وسائل بل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی وکلا سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کے بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور شیخ وقاص اکرم کو شیر افضل مروت کے الزمات کا دو ٹوک جواب دینے کی ہدایت کردی۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی میں پلانٹ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی شیر افضل مروت کی جانب سے وکلا کی فیسوں اور علیمہ خان سے متعلق بیانات پر شدید برہم ہوئے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مائنز اینڈ منرلز بل پر تحفظات کا اظہار کیا اور علی امین گنڈاپور کو مائنز اینڈ منرلز بل سے پر ملاقات کیلئے بلایا ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی ضرورت ہے۔ اندرونی کہانی کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر گوہر خان کے معذرت خواہانہ رویے پر انکو سخت پیغام بھجوایا اور پارٹی قیادت کو تمام اختلافات ختم کرنے کا سخت پیغام دیا ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے کہا کہ حکومت نے افغانستان کے ساتھ بات چیت میں بہت دیر کردی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کے پی دہشت گردی کا شکار صوبہ ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان نے قانون کی عملداری نہ ہونے پر سلمان اکرم راجہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کی ہدایت کردی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ہر بار رابطہ پر اعتراض کرنا مناسب نہیں کیونکہ ہم ملک اور عوام کے مفاد میں سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی دارالحکومت میں نجی سیکورٹی کمپنیز اور گارڈز کی انسپکشن ، نجی سیکورٹی کمپنی کا منیجر ،بغیر لائسنس اسلحہ استعمال کرنے والے گارڈزگرفتار وفاقی دارالحکومت میں نجی سیکورٹی کمپنیز اور گارڈز کی انسپکشن ، نجی سیکورٹی کمپنی کا منیجر ،بغیر لائسنس اسلحہ استعمال کرنے والے گارڈزگرفتار مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پر فائرنگ سے کم از کم 5افراد ہلاک ، متعدد زخمی امریکی وفد کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، سلمان اکرم راجہ اداکارہ عفت عمر نے پنجاب حکومت کا معاون برائے ثقافت کا عہدہ لینے سے معذرت کرلی وزیراعظم شہباز شریف 2روزہ دورے پر ترکیہ پہنچ گئے ملک اور عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی ضرورت ہے، عمران خانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں