وزیر اطلاعات، ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیئرمین این ڈی ایم اے کی مون سون بارشوں سے متعلق بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں سے متعلق بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ مون سون بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے این ڈی ایم اے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اربن فلڈنگ میں انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں سرگرمیوں کو تیز کیا گیا، این ڈے ایم اے پاک فوج اور وفاقی و صوبائی حخومتیں مل کر بہتری حکمت عملی اپنا رہے ہیں، اب تک 25 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیئرمین این ڈے ایم اے نے کہا کہ شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، بارشوں اور سیلاب سے 670 افراد جاں بحق اور ایک ہزار افراد زخمی ہوئے، لاپتہ افراد میں سے بیشتر کی لاشیں ملی ہیں، مختلف علاقوں میں کلاوڈ برسٹ کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
چیئرمین این ڈے ایم اے نے کہا کہ آرمی چیف نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کی، 17 اگست سے اب تک 25 ہزار لوگوں کو بچایا گیا، زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا، بہترین طبی امداد دی جا رہی ہے، 23 اگست تک بارشوں کا ساتواں سپیل تیز ہوگا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ بارشوں کے نئے اسپیل کے حوالے سے تیاری مکمل ہے، مختلف ذرائع سے عوام کو معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، پی ایم راشن پیکیج کے تحت پانچ اضلاع میں امداد کی تیسری کھیپ بھجوائی جا رہی ہے، امداد میں ادویات اور راشن بھجوایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کام کر رہے ہیں، اب تک چھ ہزار سے زائد افراد کو امداد فراہم کی گئی، آرمی ایوی ایشن بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میڈیکل بٹالین کے علاوہ سی ایم ایچ سے ڈاکٹرز کی ٹیم کو خیبر پختونخوا روانہ کیا گیا ہے، خیبر پختونخوا میں فوج کے آٹھ یونٹس امدادی کارروائیوں میں سرگرم عمل ہیں، نو میڈیکل کیمپوں کے ذریعے متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چھ ہزار 903 افراد کو ریسکیو کی اگیا، بونیر میں دو بٹالین امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین این ڈی ایم اے وزیر اطلاعات ایم اے نے نے کہا کہ فراہم کی رہی ہے ایس پی جا رہی
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان