ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت کے خلاف ناکامی کے بعد فاسٹ بولر حارث رؤف قومی ٹیم کے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 3.4 اوورز میں 50 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کی، جس پر سابق کرکٹرز نے انہیں غلط وقت پر بولنگ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ وسیم اکرم نے انہیں ’رن مشین‘ قرار دیا، جبکہ محمد یوسف اور محمد عامر کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے حارث پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا۔

اس دوران ان کے متنازع رویے پر آئی سی سی نے بھی 30 فیصد میچ فیس جرمانہ عائد کیا، جس سے ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ شائقین کرکٹ کی جانب سے بھی حارث رؤف کو کارکردگی اور رویے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

وی نیوز نے اس حوالے سے حارث کے استاد اسسٹنٹ پروفیسر اردو، سرگودھا یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمران اظفر اور ان کے چند قریبی دوستوں سے گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف نے شعیب اختر کو کیا کچھ یاد کرا دیا؟

ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ حارث ان کے کالج ونگ میں 4 سال تک زیرِ تعلیم رہے اور وہ 9ویں جماعت سے 12ویں جماعت تک ان کے شاگرد رہے۔ ان کے مطابق حارث ایک ہنس مکھ، شرارتی اور خوش مزاج نوجوان تھے جو زیادہ تر وقت کھیل کود اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزارتے تھے۔ وہ ہر کھیل میں حصہ لیتے، لیکن کالج کے زمانے تک کرکٹ ٹیم کا حصہ نہیں بنے تھے۔ اس دوران بھی وہ بؤلنگ کرتے تھے لیکن ان کی کوئی پہچان نہیں بنی تھی۔

ڈاکٹر عمران نے مزید کہا کہ حارث پڑھائی پر کھیل اور میل جول کو ترجیح دیتے تھے، مگر ان کی شخصیت متوازن تھی اور وہ ہمیشہ منفی سرگرمیوں اور بری عادات سے دور رہے۔ ان کے بقول: ’اقوام اپنے پسندیدہ ہیروز کا محاسبہ کرتی ہیں۔ یہ تنقید بھی محبت کی وجہ سے ہے کیونکہ ہر فین چاہتا ہے کہ حارث میدان میں کامیاب نظر آئیں۔‘

مزید پڑھیں: ایشیا کپ: حارث رؤف کا وکٹ لینے کے بعد مخصوص انداز میں جشن، تصاویر وائرل

انہوں نے کہا کہ حارث کو اپنی فٹنس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر ایک باؤلر مسلسل 3 اوورز کرانے کی ہمت نہ رکھے تو یہ تشویشناک بات ہے۔ اسی طرح جذبات کا اظہار زبانی تلخی یا ایکٹنگ سے نہیں بلکہ کارکردگی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بؤلر کا بہترین جواب بیٹسمین کی وکٹ اڑانا ہے، اور اس کے لیے حارث کو وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے لیجنڈز سے سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔

آخر میں ڈاکٹر عمران نے اپنے شاگرد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حارث کے بہتر مستقبل کے لیے دعاگو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ محنت اور عزم کے ذریعے خود کو درپیش چیلنجز پر قابو پائیں گے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے دوران حارث رؤف اور ابھیشیک شرما کے درمیان تلخ کلامی

حارث رؤف کے ایک کلاس فیلو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حارث پڑھنے کے زیادہ شوقین نہیں تھے اور ان کا دل ہمیشہ کلاس سے باہر رہنے کو چاہتا تھا۔ وہ زیادہ تر وقت کھیلوں میں گزارتے اور کرکٹ، فٹبال اور بیڈمنٹن سمیت ہر کھیل میں حصہ لیتے تھے۔ تاہم چونکہ وہ بیک وقت کئی کھیلوں میں شامل رہتے تھے، اس لیے کسی ایک کھیل میں مہارت حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی اسکول یا کالج کی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی بن پائے۔ اسکول کے زمانے میں انہوں نے کسی کھیل میں کوئی نمایاں پوزیشن بھی حاصل نہیں کی۔

ایک اور قریبی دوست کے مطابق حارث ایک اچھے انسان تھے مگر انہیں بہت جلد غصہ آ جاتا تھا۔ جب وہ بؤلنگ کی طرف آئے تو اس وقت بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ دوستوں کے بقول وہ اکثر حارث کے بؤلنگ ایکشن کی نقل کرکے انہیں چڑاتے تھے اور حارث فوراً برا مان جاتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’رن مشین‘ اسسٹنٹ پروفیسر اردو ایشیا کپ 2025 پاکستان کرکٹ حارث رؤف ڈاکٹر عمران اظفر زنیرہ رفیع سرگودھا یونیورسٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسسٹنٹ پروفیسر اردو ایشیا کپ 2025 پاکستان کرکٹ ڈاکٹر عمران اظفر زنیرہ رفیع سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر عمران ایشیا کپ کھیل میں کہ حارث کے لیے

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟