دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پائے گا، ایئرچیف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
دنیا نے معرکہ حق سے پہلے فضائی طاقت کا اتنا جرأت مندانہ استعمال نہیں دیکھا ہوگا، پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں خطاب
سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا تو دشمن پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پائے گا۔
یہ بات انہوں نے پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، رسالپور کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پی اے ایف اکیڈمی میں سعودی کیڈٹس کی موجودگی دونوں عظیم ممالک اور ان کی مسلح افواج کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کی علامت ہے،
آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس مقصد کا امین بنایا گیا ہے، پوری قوم کی امیدیں آپ کے نوجوان کندھوں پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے اتحاد کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے دشمن کو اُس کی عددی برتری کے باوجود شکست سے دوچار کیا،
معرکۂ حق میں حاصل ہوئی فیصلہ کن کامیابی قومی طاقت کے تمام عناصر کے متحدہ کردار اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی، معرکہ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے،
ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے، ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو۔
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرأت مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، جو مخصوص ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط تھا، حالیہ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کردی،
2025ء میں ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا،
ہم نے اپنی آپریشنل ڈکٹرائن کو جنگی تصورات اور حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا جس میں مالی وسائل کی محدودیت اور ٹیکنالوجیز کی دستیابی کو مدِ نظر رکھا گیا۔
سربراہ پاک فضائیہ کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے جدت طرازی کی ایک نہایت جارحانہ اور تخلیقی حکمت عملی کو اپنایا، پاک فضائیہ نے اپنے اسمارٹ انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں اور ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا،
پاک فضائیہ کے ہر فرد کو ان کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مشکل حالات میں سخت محنت کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، پاک فضائیہ نے تمام افواج کے ساتھ مل کر بہادری اور ہم آہنگی سے وطن عزیر کا دفاع کیا پوری قوم پاک فضائیہ کی ہمت اور جرات پر فخر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فتح ہماری قومی قیادت کے پختہ عزم کا ثبوت ہے، پاک فضائیہ کی کارکردگی اُس کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے، اگر ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط، اور بہتر تیار پائے گا، ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر، ہمارے تعلقات عالمی اور علاقائی اہم طاقتوں کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاکستان کی قومی قیادت اور افواج، ہماری بہادر اور پُرعزم قوم کے ساتھ، ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرُعزم ہیں، پاکستان کے عوام کا اپنی مسلح افواج پر اعتماد بے مثال ہے، جو دہائیوں کی بے لوث خدمت، قربانی اور قوم کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔
تقریب میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور شیر دل ایروبیٹکس ٹیم فلائے پاسٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ آج پی اے ایف اکیڈمی رسالپور سے 151 جی ڈی پی، 97 انجینئرنگ اور 108 ویں ائیر ڈیفنس کورس کے کیڈٹس پاس آؤٹ ہوں گے۔
10 ویں نیوی گیشن الفا، 28 ویں ایڈمن اینڈ سپیشل ڈیوٹیز اور 11 لاجسٹکس کورس کے کیڈٹس بھی پاس آؤٹ ہوں گے۔ 134 ویں کومبیٹ سپورٹ اور 98 ای سی رائل سعودی ایئر فورس کے کیڈٹس بھی پاس آؤٹ ہوںگے۔
پی اے ایف اکیڈمی رسالپور سے آج مجموعی طور پر 166 کیڈٹس پاس آؤٹ ہوں گے ان میں پاک فضائیہ کے 136 اور سعودی فضائیہ کے 20 کیڈٹس شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سربراہ پاک فضائیہ پاک فضائیہ نے پاس آؤٹ ہوں فضائیہ کے نے کہا کہ کیا گیا کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔