امریکا کی پاکستان کو ریل انجن فراہمی اور معدنی وسائل میں تعاون کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
امریکی انتظامیہ نے پاکستان سے امریکی ساختہ لوکوموٹیوز (ریل انجن ) کی فروخت اور ملک میں موجود معدنی وسائل کے حوالے سے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بات چیت دوماہ قبل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے واشنگٹن دورے کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ذرائع نے بتایاکہ امریکی خصوصی معاونین ریمونڈ ایموری کاکس اوررکی گِل نے پاکستانی وفد سے ملاقاتوں میں امریکی تجارتی مفادات کے تحفظ کو ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح قرار دیا۔
رکی گِل نے پاکستان سے امریکی لوکوموٹیوزکی خریداری کیلیے حمایت کی درخواست کی جس کیلیے پہلے ہی ٹینڈر جاری کیاجاچکاہے،چندسال قبل پاکستان نے امریکا سے 55 لوکوموٹیوز خریدے تھے۔ پاکستان ریلویز اس وقت مالی مشکلات کاشکار ہے اور موجودہ لوکوموٹیوزکی مرمت اور بحالی پر انحصارکررہاہے، حال ہی میں 100 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوزکی مرمت کے منصوبے کی لاگت بڑھاکر 16 ارب روپے کر دی گئی۔
واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں اہم انکشافات؛ 2025 پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار
ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت نے پاک امریکا تعلقات کو نئی جہت دی، فارن پالیسی کا اعتراف
ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان میں اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز)کے شعبے میں تعاون پر بھی زور دیا۔ امریکی کانگریس نے دنیابھر میں اہم معدنیات میں سرمایہ کاری کیلیے 135 ارب ڈالرکافنڈقائم کیاہے جبکہ یو ایس ایگزِم بینک نے بلوچستان میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کیلیے 1.
امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار تھامس لرستن نے معدنی ذخائرکے تخمینے،آف ٹیک معاہدوں اور تیزرفتار استخراج کیلیے تعاون کی تجویز دی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)کو بھی امریکاکی اسٹریٹجک ترجیح قرار دیااور امکان ظاہرکیاکہ امریکی انڈر سیکریٹری برائے توانائی جیکب ہیلبَرگ جلد پاکستان کادورہ کرینگے۔
وزیرِ خزانہ نے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری رابرٹ کیپروتھ سے بھی ملاقات کی۔ امریکی حکام نے ڈیجیٹل فنانس،اسٹیبل کوائن فریم ورک اور سرحد پار ڈیجیٹل تعاون میں بھی دلچسپی کااظہارکیا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے پاکستان
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔