WE News:
2026-06-02@22:27:22 GMT

سال 2025 میں کن کن غیر ملکی رہنماؤں نے پاکستان کے دورے کیے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

سال 2025 میں کن کن غیر ملکی رہنماؤں نے پاکستان کے دورے کیے؟

سال 2025 پاکستان کی سفارتکاری کے حوالے سے انتہائی اہم سال رہا، سال کے شروع میں ہی پاکستان نے علاقائی ممالک کو خاص طور دوطرفہ اور سہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے انگیج کیا، سال 2025 میں 9 عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے دورے کیے جن میں سب سے پہلا دورہ 12 سے 13 فروری کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا تھا۔

اس کے بعد 3 اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ 2 اکتوبر کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری ابراہیم پاکستان کے دورے پر آئے۔ اکتوبر ہی میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آئے۔ 15 نومبر کو اُردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان کے دورے پر آئے اور 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا دورہ کیا۔

مزید پڑھیں: ’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘ یو اے ای کے صدر کے دورۂ پاکستان پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری

سفارتکاری کے اہم مواقع کون کون سے تھے؟

اس سال دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے 19 اپریل کو افغانستان کا دورہ کیا جو افغان طالبان رجیم کے ساتھ حالات معمول پر لانے کی بڑی کوشش تھی، جس کے بعد پاکستان افغانستان اور چین سہ فریقی مذاکرات بیجنگ میں ہوئے اور اُس کے بعد سہ فریقی مذاکرات اگست میں کابل میں ہوئے۔

پاکستان کا خارجہ محاذ سب سے زیادہ اُس وقت گرم ہوا جب بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کا آغاز اس سال 6 مئی کو اور اُس سے پہلے 22 اپریل پہلگام واقعے سے ہوا۔ اس میں پاکستان کی بہت بڑی کامیابی یہ رہی کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارتی بیانیہ اپنانے سے انکار کر دیا۔ کئی بڑے مُلکوں نے پہلگام واقعے کی مذمت تو کی تو لیکن بھارت کی یہ خواہش کہ اُس کے ساتھ پاکستان کو جوڑا جائے، ادھوری رہ گئی، لیکن جنگ جیتنے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ساری دنیا میں مؤثر تسلیم کیا گیا۔

’اس سال رجب طیب اردوان نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا‘

سب سے پہلے پاکستان کا دورہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 12 سے 13 فروری تک کیا۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے لیے اقدامات، باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانے، دفاعی پیداوار اور عسکری شراکت داری پر متعدد معاہدے کیے گئے۔ دورے کے دوران 24 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ علاقائی اور عالمی امور، بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ مؤقف بھی اپنا گیا۔

’متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم کا دورہ‘

20 سے 21 اپریل متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔

دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مسلم دنیا کے معاملات پر مشاورت کی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ سرمایہ کاری، افرادی قوت اور تجارتی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا دورہ

2 سے 3 اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر آئے۔ اس دورے کے دوران پاک ایران تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اس کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔ دورے کے موقع پر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی اور عوامی و ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا، یہ دورہ معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے اہم رہا۔

ایرانی صدر کی آمد سے قبل، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے 5 مئی کو پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں خطے میں کشیدگی، سرحدی صورتحال اور سفارتی ہم آہنگی پر گفتگو کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی تعاون اور امن و امان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

25 سے 26 نومبر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور انتہائی اہم رہنما ڈاکٹر اردشیر علی لاریجانی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں دوطرفہ معاملات پر بات چیت کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ سال پاک ایران تعلقات کے حوالے سے اچھا ثابت ہوا۔

قازقستان کے نائب وزیراعظم کا دورہ پاکستان

8 سے 9 ستمبر قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ مورات نورتلیو نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران وسطی ایشیا تک رسائی، تجارت اور توانائی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی روابط اور مستقبل کے اعلیٰ سطحی دوروں کی تیاری کے سلسلے میں بات چیت بھی ہوئی۔

ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کا دورہ

2 سے 4 اکتوبر ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔

دورے کے دوران دونوں حکومتوں نے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں حلال صنعت، چھوٹے و درمیانے کاروبار، سیاحت اور سفارتی تربیت شامل ہیں، جبکہ سیاسی سطح پر علاقائی امن، استحکام اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

اس کے علاوہ اقتصادی پیش رفت کے طور پر ملائیشیا نے پاکستان سے زرعی مصنوعات اور حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، اس طرح یہ دورہ پاکستان ملائیشیا تعلقات کو مضبوط کرنے اور باہمی شراکت داری کو عملی شکل دینے کا اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان

24 اکتوبر کو پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں پاکستان یورپی یونین تعلقات اور عالمی سفارتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ ساتھ ہی ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شاہ عبداللہ دوم

15 سے 16 نومبر اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان میں اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ دورے کے دوران مشرقِ وسطیٰ، غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر ہم آہنگ مؤقف اپنایا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی و سیکیورٹی پہلوسے باہمی تعاون اور استحکام پر بات چیت کی گئی۔ شاہ عبداللہ دوم کو نشانِ پاکستان سے بھی نوازا گیا۔

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو

8 سے 9 دسمبر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو پاکستان کے دورے پر آئے۔ اس دورے میں تجارت، صحت، تعلیم اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی اتفاقِ رائے ہوا اور یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے 75 سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی یاد کے حوالے سے اہم تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کی طیب اردوان کو دورہ پاکستان کی دعوت، ترک سرمایہ کاروں سے ملاقات

صدر متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید النہیان

26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی گئی، ساتھ ہی ساتھ دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات اور علاقائی استحکام پر بھی مشاورت ہوئی، یہ دورہ پاکستان کے لیے معاشی اعتماد کا بڑا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پاک بھارت جنگ دورہ پاکستان سال 2025 سفارتکاری عالمی رہنما وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ دورہ پاکستان سال 2025 سفارتکاری عالمی رہنما وی نیوز پاکستان کے دورے پر ا ئے نے پاکستان کا دورہ کیا متحدہ عرب امارات کے کے نائب وزیراعظم پر بات چیت کی گئی شاہ عبداللہ دوم بن زاید النہیان اس کے ساتھ ساتھ مسعود پزشکیان دورے کے دوران دورہ پاکستان ساتھ ہی ساتھ سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کی طیب اردوان تعاون پر یہ دورہ کیا گیا کے لیے کے بعد سال 2025 کے صدر

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ