پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کی سعودی و اماراتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یمن میں حالیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان جمہوریہ یمن میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اس ضمن میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو بھی سراہتا ہے، ہم یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان اس اُمید کا اظہار کرتا ہے کہ یمنی فریقین کسی بھی یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں گے، ایسے یکطرفہ اقدامات جو صورتِ حال میں مزید کشیدگی کا باعث بنیں۔
جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی 2 ایئرہوسٹس کے درمیان ہاتھا پائی
’’جنگ ‘‘ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام یمنی فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک جامع، مذاکراتی سیاسی حل کے لیے تعمیری انداز اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کریں، پاکستان کو اُمید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں ملک میں دیرپا امن کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کا باعث بنیں گی، پاکستان یمنی عوام کی تکالیف کے خاتمے کی بھی اُمید کرتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔