چھوٹے تاجروں کو ایف بی آر پوائنٹ آف سیل نظام سے بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور تاجر نمائندوں کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے واضح کہا ہے کہ جو تاجر پوائنٹ آف سیل سسٹم لگانے کی مالی اور تکنیکی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں اس نظام سے مستثنا رکھا رکھا جائے گا اور کسی بھی تاجر کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان کو ملک بھر کے چھوٹے تاجروں کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری کی قیادت میں ایک وفد نے چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کی، جس میں ممبر ان لینڈ ریونیو زبیر بلال سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران تاجروں نے ایف بی آر کی حالیہ پالیسیوں، فیلڈ افسران کے رویے اور پوائنٹ آف سیل کے نفاذ سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی۔ تاجروں نے شکایت کی کہ دستاویزی نظام کے نام پر چھوٹے کاروباروں پر غیر معمولی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
کاشف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ ملکی اور غیر ملکی برانڈز اور بڑے چین اسٹورز کے پاس جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹمز، متبادل بجلی، تربیت یافتہ عملہ اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی حد تک پوائنٹ آف سیل سسٹم کو اپنا سکتے ہیں، تاہم عام مارکیٹوں میں موجود چھوٹے تاجر ان سہولتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے چھوٹے دکانداروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جب کہ جرمانوں، دکانوں کی سیلنگ اور مسلسل نوٹسز نے خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
تاجر رہنماؤں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے عام مارکیٹوں میں بڑے قافلوں کے ساتھ چھاپے مارنے کا انداز ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی دشمن قوت کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف تاجروں کی تذلیل ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور بے اعتمادی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجروں نے مطالبہ کیا کہ شفاف اور منصفانہ نظام کے تحت اصلاحات کی جائیں اور چھوٹے کاروبار کو بلاوجہ نشانہ نہ بنایا جائے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے تاجروں کی شکایات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے انہیں مکمل یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر کسی بھی صورت میں تاجر برادری کو دباؤ یا ہراسانی کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو اہلکار تاجروں کو بلیک میل کرنے، رشوت طلب کرنے یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کرپشن کی شکایات پر متعلقہ عملے کو معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔
راشد لنگڑیال نے مزید کہا کہ ایف بی آر آئندہ تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لے کر اور مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے گا تاکہ ٹیکس نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پوائنٹ آف سیل کا نفاذ صرف وہاں کیا جائے گا جہاں اس کی عملی گنجائش موجود ہو جب کہ چھوٹے تاجروں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت اور ایف بی آر کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پوائنٹ آف سیل چھوٹے تاجر ایف بی آر کیا کہ کیا جا
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب