بڑا ایکشن! سڑک اور فٹ پاتھ کو اپنی ملکیت سمجھنے والوں کی شامت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : شہرِ قائد میں سڑک اور فٹ پاتھ کو اپنی ملکیت سمجھنے والوں کی شامت آگئی، انتظامیہ نے رعایت ختم کرتے ہوئے تجاوزات کے خلاف ایکشن لے لیا۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہر قائد کے تمام اضلاع میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی دو روزہ رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق دکانوں کے باہر انکروچمنٹ قائم کرنے پر 91 ہوٹلز سمیت 3 سو 38 دکانیں سیل اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیل کی جانے والی دکانوں کے باہر سے ٹھیلے، پتھارے اور دیگر تجاوزات بھی ضبط کر لی گئیں، جنوبی میں سب سے زیادہ 284، شرقی میں 23 اور ضلع وسطی میں 14 دکانیں سیل کی گئیں۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
رپورٹ کے مطابق اسی طرح ضلع کیماڑی میں 3، کورنگی میں 11، ملیر میں 1 اور غربی میں 2 دکانیں سر بمہر کی گئیں۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام دکانوں کو ایس او پی کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سیل کی جانے والی تمام دکانوں کے باہر دوبارہ تجاوزات قائم کر دی گئی تھیں، انکروچمنٹ مافیا نے سڑک اور فٹ پاتھ کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
کمشنر کراچی نے مزید کہا کہ مافیا سے سختی سے نمٹا جائے گا، تجاوزات کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، تمام دکانداروں کو بار ہاں ازخود انکروچمنٹ ختم کرنے کی تنبیہ کی جا چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیل کی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔