کراچی:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، آئین میں ترمیم کرنا ہو تو پیپلزپارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے، جب عوام کی بات آئے تو بلیم گیم شروع ہوجاتا ہے، کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے۔

ایم کیو ایم کی کراچی بچائو مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اب ایم کیو ایم غیر متعلقہ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، ہم بھی انہیں سنجیدہ نہیں لیتے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ہر کام مل کر کرتے ہیں اور پورا حصہ لیتے ہیں پھر کس طرح ایسی بات کرتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایم کیو ایم اب بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے، عوام، آئین اور جمہوریت دشمن کاموں میں تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں مگر کام کا وقت آتا ہے تو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگتے ہیں، جو قوتیں انہں ہمارے سروں پر مسلط کرتی ہیں وہ جان لیں جو گند پھیلاتا ہے صاف بھی اسی کو کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے، کراچی کا پنجاب سے موازنا نہ کیا جائے، پنجاب میں جتنے فنڈز ملتے ہیں اس حساب سے کارکردگی دیکھی جائے، سندھ کا تو برا حال ہے ہی لیکن پنجاب میں بھی دودھ کی نہر نہیں بہہ رہیں۔

ان کا کہنا تھا سندھ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ کے فور منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہے، یہ لوگ جب وفاق میں تھے اس وقت انہوں نے کیا کیا تھا، اب بھی یہ وفاق کا حصہ ہیں، ہر مشکل وقت میں وفاق کے ساتھ ہیں، کے فور کیلئے پانی کو گھروں تک پہنچانے کا کام بھی تو سندھ حکومت کا تھا لیکن سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کوئی کام نہیں کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے 3 ہزار 400 ارب روپے کھا گئی ہے، نعمت اللہ خان نے اپنے دور کے آخر میں کے فور پر کام شروع کردیا تھا، 21 سال ہوگئے ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔

حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کی شہری سوال کرتے ہیں کب تک ہمارے بچے ڈمپر سے کچلے جاتے رہیں گے، کب تک بچے گٹروں میں گر کر ہلاک ہوتے رہیں گے، شہر کو اس مافیا سے نجات دلانا ہوگی، صوبہ بنانے کی بات اس لیے کی جاتی ہے تاکہ سندھی مہاجر لڑیں، صوبے بنانے سے کس نے روکا ہے؟۔ تمام اختیارات کی مقامی حکومتوں کو منتقلی سے کون روکتا ہے، کون سی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے آپ کبھی 10، کبھی 20 اور کبھی 1970 کی ڈبل ڈیکر لا رہے ہیں، بلاول کا وژن کراچی کو موئن جو دڑو بنانے کا ہے، موہنجو دڑو میں بھی کوئی نظام اور تہذیب تھی، بلاول وژن کی بات کرنے والے وزیر اعلیٰ سندھ حساب دیں، جنہوں نے کراچی میں میئر شپ پر قبضہ کیا اور جنہوں نے جعلی حکومت دی وہی چھڑوائیں بھی، وسیع تر قومی مفاد کے نام پر سسٹم مسلط کرنے والے جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف 15 جنوری سے مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرائے جائیں تاکہ پورے ملک کے عوام اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دے سکیں۔ پارٹی پوزیشن کا تعین پورے پاکستان میں حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور اسی تناسب سے نشستیں مختص کی جائیں، انتخابات کو شفاف بنایا جائے اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی انجینئرنگ نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ کی قدر نہ کی گئی اور زبردستی عوام پر فیصلے مسلط کیے گئے تو انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی رائے کو تسلیم کیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سڑکوں پر احتجاج کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے احتجاج کے دوران پورے سندھ کو آگ لگا دی گئی، جبکہ ہمارے احتجاج ہمیشہ پرامن ہوتے ہیں۔ کرپٹ عناصر کو ہمارے احتجاج سے تکلیف ہوتی ہے، اسی لیے وہ منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان پیپلز پارٹی ایم کیو ایم نے کہا کہ کرتے ہیں انہوں نے ایم کی

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو