حکمران طبقہ جنریشن زی سے خوفزدہ ، حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے : حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان کا سفر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال لاہور میں بھی میرا برانڈ پاکستان نمائش ہوئی۔ جماعت اسلامی کے اجتماع عام جو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اجتماع تھا میں بھی میرا برانڈ پاکستان کا ایک بازار سجایا گیا تھا، حکمران طبقہ جنریشن زی سے خوفزدہ ہے، جنریشن زی کو ہم حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ جنریشن زی کو کوئی نہیں سنبھال سکتا۔ کراچی سے شروع ہوکرپورے پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ 280 کمپنیز اور 700 برانڈزکی شاندار نمائش کے انعقاد پر میں بزنس فورم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس بائیکاٹ مہم کے ساتھ ہمیں اپنی مصنوعات کو متبادل کے طور پرفروغ دینا چاہیے، اس سے ہمارے ملک کی صنعتوں کو بھی فائدہ ہوگا، پاکستان کے صنعتکاروں کو چاہیے کہ اپنی مصنوعات کی کوالٹی بہتر اور قیمتیں کم سے کم کریں، میرا برانڈ پاکستان سے جتنی بھی آمدنی ہوگی وہ سب فلسطین کی امداد کے لیے استعمال ہوگی۔ اب تک جماعت اسلامی اور الخدمت اربوں روپے مالیت کی 40 امدادی کھیپ غزہ روانہ کر چکی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کراچی چیپٹر کے تحت دو روزہ چوتھی میرا برانڈ پاکستان نمائش کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بزنس فورم کراچی چیپٹر کے صدر سہیل عزیز، سینئر نائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ثاقب فیاض مگوں، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر جاوید بلوانی، آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ، جنرل سکرٹری عامر رفیع نے بھی اظہار خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میرا برانڈ پاکستان جماعت اسلامی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔