کراچی، بچوں کے حفاظتی ٹیکے پروگرام میں لڑکیوں کیلئے ایچ پی وی ویکسین بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی:
حکومت سندھ نے صوبے میں لڑکیوں کو ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کو بچوں کے حفاظتی ٹیکے (ای پی آئی) پروگرام میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد اس پروگرام میں بچوں کی 13 بیماریوں سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین ہوگئی ہے جو صرف 9 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو لگائی جائے گی۔
ایکسپریس نیوز کو بچوں کے حفاظتی ٹیکہ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کمار نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ایچ پی وی ویکسین کے حوالے سے کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران کو جاری ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے روٹین ایمیونائزیشن پروگرام میں ایچ پی وی یکسین کو شامل کرلیا گیا ہے جس میں 9 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ ویکسین ای پی آئی کے حفاظتی مراکز میں 9 سال تک کی عمر کی آنے والی بچیوں کو لگائی جائے۔
ڈاکٹر راج کمار نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 3 سال کی ویکسین کے لیے 797 ملین روپے وفاقی حکومت کو دیے ہیں اور ہر سال 7 لاکھ لڑکیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی خریداری وفاقی حکومت کرے گی لیکن اس ویکسین کی خریداری میں حکومت سندھ کے ذمہ 797 ملین روپے آئے ہیں جو حکومت سندھ وفاق کو ادا کرے گی۔
واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ اور پنجاب 15 ستمبر 2025 میں پہلی بار لڑکیوں کو سروئیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے لگائی جانے والی حفاظتی ایچ پی وی ویکسین مہم شروع کی گئی تھی جس میں والدین کی اکثریت نے عدم اعتمادکا اظہارکرتے ہوئے اپنی بچیوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کیا تھا۔
اس مہم کے دوران کراچی سمیت سندھ بھر کی9 سے15سال کی 4.
محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے حفاظتی ٹیکے پروگرام نے دعویٰ کیا ہے کہ ویکسین مہم کامیاب رہی لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے، ویکسین مہم کی ناکامی کی بڑی وجہ محکمہ صحت کی جانب سے تشہیری اور آگامی مہم چلائے جانے کے باوجود والدین کی جانب سے کوئی مؤثر رسپانس نہیں دیکھنے میں آیا۔
محکمہ صحت کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے والدین کو ویکسین کی افادیت سے آگاہ کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں مختلف مقامات پر پروگرام بھی منعقد کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ویکسین مخالف عناصر نے سوشل میڈیا پر اس ویکسین کے خلاف منفی مہم چلائی جو خاصی مؤثر رہی اور سوشل میڈیا پر اے آئی کے ذریعے ایسی ویڈیو بناکر چلائی گئی جس کے وجہ سے والدین میں خوف وہراس پھیل گیا۔
محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے EPI پروگرام کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں ویکسین مہم کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع کیماڑی میں 9 سے 15 سال عمر کی لڑکیوں کی ایک لاکھ 54 ہزار 632 میں سے صرف 16 فیصد لڑکیوں کو حفاظتی ویکسین لگائی گئی، ضلع شرقی میں 2 لاکھ 91 ہزار 552 لڑکیوں میں سے صرف 37 فیصد لڑکیوں کو حفاظتی ویکسین لگائی گئی۔
اسی طرح ضلع ساؤتھ میں ایک لاکھ 73 ہزار 772 لڑکیوں میں سے صرف 39 فیصد لڑکیوں، ضلع سینٹرل میں دو لاکھ 84 ہزار 976 لڑکیوں میں سے صرف 42 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لڑکیوں کو ویکسین حفاظتی ویکسین ویکسین لگائی پروگرام میں فیصد لڑکیوں حکومت سندھ ویکسین مہم کی جانب سے کے حفاظتی ایچ پی عمر کی
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔