Express News:
2026-06-02@22:28:15 GMT

ہم نئے سال میں ایسا نہیں ہونے دیں گے

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

اک سال گیا، اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
(ابنِ انشا)

ہمارے ملک میں دو قسم کے کیلنڈر موجود ہیں، ایک ہجری کیلنڈر اور دوسرا عیسوی کیلنڈر۔ مسلمانوں کا اصلی کیلنڈر عیسوی نہیں ہجری ہے۔

ہجری کیلنڈرکا آغاز محرم سے ذی الحجہ مہینے کے اختتام پر ہوتا ہے اور اس اسلامی نئے سال کے آغاز میں ہمیں دوکام کرنے چاہئیں۔

نمبر ایک ’’ ماضی کا محاسبہ‘‘ اور نمبر دو ’’مستقبل کا لائحہ عمل۔‘‘ دنیا بھر میں اسلام ہی وہ واحد ایسا پاکیزہ اور مکمل دین ہے جسے انسانیت کی اصلاح و فلاح کے لیے اُتارا گیا۔

جس کے اندر تمام تر انسانی وسائل کا حل دلیل کے ساتھ موجود ہے، کیوں کہ اسلام ہر مسئلے کو بہت ہی نرالے اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔

ہجری کیلنڈرکے مطابق کیا مسلمانوں کو نئے اسلامی سال کی خوشی منانی چاہیے؟ محرم الحرام اسلامی نیا سال ہے اور میرے خیال میں اس کا آغاز خوشی کے بجائے عبرت، توبہ اور اللہ سے قربت کا موقع ہے، (خاص طور پر نواسہ رسول حضرت امامِ حسینؓ کی شہادت کی یاد میں)، اس لیے اس کی ’’خوشی‘‘ نہیں منائی جاتی، بلکہ اس مہینے میں اللہ کی عبادت (روزے، صدقہ) اور گناہوں سے بچنے پر زور دیا جانا چاہیے، جب کہ شور مچانے، آتش بازی اور دیگر خلافِ شرع طریقوں سے خوشی منانا ناجائز ہے۔

اسلامی نئے سال کی آمد پرگزشتہ گناہوں سے توبہ کرمعافی مانگنا چاہیے۔کے اللہ سے اسلامی سال کو اپنانا مسلمانوں کی علامت ہے اس لیے اس کا خیال اچھی طرح سے رکھنا چاہیے۔ ہمیشہ کی طرح ہر سال کیلنڈر بدلتے ہیں مقدر نہیں بقول اعتبار ساجد کہ:

کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے
کیلنڈرکے بدلنے سے مقدرکب بدلتا ہے

عیسوی کیلنڈرکی بات کریں تو اس کا آغاز جنوری سے اور اختتام دسمبر کے مہینے پر ہوتا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ نیا سال 2026 کی خوشی منانے کی بجائے زندگی میں آگے آنے والے نئے عزائم اورکامیابیوں کے بارے میں ابھی سے سوچ رہے ہیں۔

نئے سال کے عزائم کا مطلب ہے زندگی میں مثبت تبدیلی لانے، خود کو بہتر بنانے، خاص مقاصد حاصل کرنے یا بری عادتیں چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرنا ہے۔

میرے اس نئے سال میں تین عزائم یہ ہے کہ صحت مند عادات اپنانا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے رشتوں کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔ 2025 میں میری تین کامیابیوں میں پہلی کامیابی میری ماں کی دُعائوں کا سایہ اور ان کا میری ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑے ہونا ہے، دوسری کامیابی بہت سے سنیئرز سے سیکھ کر زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا، تیسری کامیابی کاروبار میں دن بہ دن ترقی آنے سے مالی حالات مستحکم ہوئے جس سے بہت سے مشکلات حل ہوئیں۔

مجموعی طور پر2025 دنیا بھر کے لیے غیر معمولی طور پر ہنگامہ خیز اور آزمائشوں سے بھرپور ثابت ہوا۔ مختلف خطوں میں جاری جنگوں، شدید موسمی تبدیلیوں، تباہ کن سیلابوں اور قدرتی آفات نے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثرکیا۔

کہیں مسلح تنازعات نے انسانی المیوں کو جنم دیا تو کہیں موسمی شدت نے ریاستی نظام اور معاشی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بے گھر افراد، غذائی قلت، معاشی دبائو اور سفارتی کشیدگیاں سال بھر عالمی منظر نامے پر چھائی رہیں، جس نے دنیا کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا۔

ان عالمی مشکلات کے باوجود سال 2025 پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ اگرچہ پاکستان کو بھی ماحولیاتی خطرات اور علاقائی چیلنجزکا سامنا رہا، تاہم دفاعی محاذ پر یہ سال انتہائی سود مند ثابت ہوا، پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹرٹیجک بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی خود مختاری کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

مجموعی طور پر یہ سال دنیا کے لیے آزمائش، جب کہ پاکستان کے لیے عزم، استحکام اور دفاعی کامیابی کی علامت بن کر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

2025 میں پاکستان نے فوج کی وجہ سے پوری دنیا کے ممالک میں اپنا کھویا ہُوا مقام پانے میں کامیاب ٹھہرا۔ آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان ترقی و خوشحالی کے منزلیں طے کرتا ہُوا دن بہ دن آگے بڑھ رہا ہے۔

رہی بات سیاسی چہروں کی جو موجودہ حکومت میں ہیں، کون کتنا ایمانداری سے کام کر رہا ہے وہ سب جانتے ہیں آپ بھی۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ 2026 میں اپنے لیے اور اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی خوشحالی کے لیے دُعائیں مانگتے ہوئے ہمیشہ اپنی اور اپنے وطن کی بہترین کے لیے دن رات کام کریں اور جو غلطیاں ماضی میں ہوئی اُن سے سبق سیکھتے ہوئے آنے والے سال میں دھرائی نہ جائیں۔ کیوں کہ جو غلطیوں سے سیکھتے ہیں وہیں لوگ کامیاب زندگی کی ضمانت ٹھہرتے ہیں۔ ایک بار پھر بقول شاعر۔

رنج کا لمحہ کسی کا بھی مقدر ٹھہرے
ہم نئے سال میں ایسا نہیں ہونے دیں گے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے نئے سال سال میں کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں