بغداد، شہدائے قدس کی برسی کا اجتماع، ہزاروں افراد کی شرکت، حشد الشعبی کے سربراہ کا خطاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اپنے خطاب میں حشدالشعبی کے کمانڈر نے کہا کہ شہید حاج قاسم سلیمانی اور ان کے دیرینہ ساتھی حاج ابو مہدی المهندس کا طریقہ اور کردار، حسینی ایثار کی سب سے اعلیٰ شکل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں شہدائے آزادی قدس شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المهندس کی یاد میں ہونے والی تقریب عوام کی بڑی تعداد کی شرکت کی اور حشدالشعبی کے سربراہ نے تقریب سے خطاب کیا۔ تسنیم کے بغداد میں موجود نمائندے نے رپورٹ کیا کہ محورِ مقاومت کے کمانڈروں اور تکفیری دہشت گردی پر فتح کے معرکے کے قائدین، سپہبد شہید قاسم سلیمانی اور شہید کمانڈر ابو مہدی المهندس کی شہادت کی چھٹی برسی کی تقریب، اُن کی شہادت کی جگہ یعنی بغداد ایئرپورٹ کے قریب منعقد ہوئی اور عوام کی کثیر تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔
تقریب میں عراق کے حشدالشعبی کے سربراہ فالح فیاض نے شہید مقاومتی کمانڈروں کی یادگار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المهندس شہداء کے نام عزت، کرامت اور مظلوموں کے دفاع جیسے بلند مفاہیم کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خدائی انسان اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنی زندگی عدالت قائم کرنے اور ظالموں سے لڑنے کے لیے وقف کر گئے، وہ طاقتور دشمنوں کے مقابل مضبوط کھڑے ہوتے تھے اور عوام کے درمیان نہایت مہربان اور خیرخواہ تھے۔ فالح فیاض نے مزید کہاکہ اگرچہ ان عزیزوں کی جدائی نے ہمارے دلوں کو غم اور تکلیف سے بھر دیا ہے، لیکن ان کی شہادت ہمیں مایوس نہیں کرتی بلکہ ہمارے ارادے کو اور زیادہ مضبوط کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یقین ہے کہ ایثار کی روح اور امتِ اسلامی کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ، ان عظیم شہداء کے مقصد اور آرمان ضرور پورے ہوں گے۔ حشدالشعبی کے کمانڈر نے کہا کہ شہید حاج قاسم سلیمانی اور ان کے دیرینہ ساتھی حاج ابو مہدی المهندس کا طریقہ اور کردار، حسینی ایثار کی سب سے اعلیٰ شکل ہے، اور مزید کہا کہ اللہ کی تقدیر یہی تھی کہ ان مجاہدوں کا پاک خون کربلا کی سرزمین میں بہے تاکہ دنیا اور آخرت میں ان کے ہمیشہ کے لیے جڑ جانے والے رشتے کو ثبت کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے اس دہشت گردانہ جرم کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہیں جس میں مقدسات کی بے حرمتی کی گئی اور عراقی قوم کے معزز مہمان کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر ان شہداء کے مقصد سے اپنا عہد تازہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم قربانی کے مقابل ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم مقاومت کے راستے کو جاری رکھیں اور اُن اقدار کی حفاظت کریں جن کے لیے ان بزرگوں نے اپنی جان قربان کی۔ حشدالشعبی کے کمانڈر نے مزید کہا کہ جس وقت دہشت گردی عراق کی بنیادوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی، دینی مرجعیت کے تاریخی فتوے اور حشدالشعبی کے قیام نے حالات کو قومی خودمختاری کے حق میں بدل دیا، اس عوامی قوت نے امام حسینؑ کی تعلیمات سے سیکھتے ہوئے نہ صرف قبضہ شدہ علاقوں کو آزاد کرایا بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی جنگ میں عراق کی طاقت اور وقار کو واضح کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حشدالشعبی افواہوں کے برخلاف کوئی مسئلہ نہیں بلکہ قومی اتحاد کی ضمانت اور تمام شہریوں کے درمیان پر امن ہم آہنگی کی روشن علامت ہے۔ آج آزاد شدہ علاقوں میں بے گھر لوگوں کی واپسی اور انتخابات کا انعقاد اُن مردوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جو امام علیؑ کے مکتب کے مطابق معاشرے کے تمام افراد کو برابر سمجھتے ہیں، اور جنہوں نے عراق کی سلامتی خود عراق کے بیٹوں کے ہاتھوں فراہم کی ہے۔ واضح رہے شہدائے قدس سپاہپاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی مھندس کی برسی کے موقعپر ایران سمیت دنیا بھر میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابو مہدی المهندس قاسم سلیمانی اور حشدالشعبی کے نے مزید کہا مزید کہا کہ کے کمانڈر نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔