data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امت ملت کا ترجماں، فلسطین کی ماؤں بہنوں کا نگہباں، امت مسلمہ کا عظیم مجاہد فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے بریگیڈ ابو قسام کا ترجمان ابو عبیدہ اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کے چالیس افراد کے ہمراہ جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ جن میں ان کی بیوی اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ ابو عبیدہ جمالیا سے اٹھنے والی پاکیزہ آواز تھی جس نے کفر کی قوتوں پر لرزاں طاری کر دیا۔ دور بزدلی میں ابوعبیدہ نے اپنی تلوار اور حوصلے سے دشمنوں کے غرور کو للکارا۔ ابو عبیدہ کا پاکیزہ لہو کا ہر قطرہ گواہی دے گا کہ ابو عبیدہ تم کامیاب ہوگئے کیونکہ تم اس وقت کھڑے تھے جب امت کے غلام حکمراں اور جرنیل فرار کا راستہ اختیار کررہے تھے۔ ابو عبیدہ شہید تم نے اپنے عمل سے امت کے غلام حکمرانوں کو آزادی حریت اور جرأت کا راستہ دکھایا۔ نقاب پوش مجاہد آج بغیر نقاب کے دنیا کے سامنے آیا اور اپنی منزل مرادپا گیا۔ وہ آج دنیا بھر میں اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں کو اشکبار کر گیا۔ ایسے مجاہد صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ شہادت کا عظیم رتبہ پا کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ ابو عبیدہ شہید وہ ستارا ہیں جو ٹوٹ کر بھی امت کے مستقبل کو روشن کر گئے۔ اپنی زندگی انہوں نے اپنے وطن سرزمین فلسطین اور قبلہ اوّل کی آزادی کے لیے قربان کردی۔ صدیوں تک امت اپنے اس مجاہد اور پیروکار یاد رکھے گی اور آنے والی نسلوں کو ابوعبیدہ کی شجاعت کے قصے سنائے گی۔
ابو عبیدہ امت کا ترجمان تھا، وہ عظمتوں کا نشاں تھا، زباں پر اس کے یقین رواں تھا، وہ سعادت پا گیا اپنے ربّ سے۔ ابو عبیدہ کی شہادت سے تحریک آزادی فلسطین نہیں رکے گی بلکہ بیت المقدس کی آزادی کی جنگ میں اور تیزی آئے گی۔ مزاحمت کا استعارہ امت کے دلوں میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا۔ ابو عبیدہ اپنی شہادت سے یہ بات بھی سمجھا گیا ہے کہ ابو عبیدہ کے قاتل اسرائیلی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے بزدل حکمران ہیں جو ابراہم اکارڈ کی راہ ہموار کرنے اور گریٹر اسرائیل منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امت سے غداری کررہے ہیں اور غلامی بزدلی کا طوق اوڑھے ہوئے ہیں۔ ابوعبیدہ اور اس کے خاندان جس عمارت پر رہائش پذیر تھے اسرائیل نے اس عمارت پر ایسی خطرناک بمباری کی کہ تمام افراد اور پوری عمارت خاکستر ہوگئی اور تمام زندہ افراد جل کر بھسم ہوگئے۔ بمباری میں اتنا خطرناک کیمیکل اور بارود استعمال کیا گیا کہ کسی کے زندہ بچ جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ایسے میں ابو عبیدہ کامیاب اور کامران ہوگئے۔ انہوں نے اپنی منزل مقصود پالی۔ بلاشبہ جنت کے دروازوں پر سیدنا امام حسینؓ،سید الشہداء سیدنا حمزہؓ اور سیدنا خالد بن ولیدؓ کے ساتھ ساتھ شہید شیخ احمد یاسین، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید یحییٰ سنوار، ان کا گرم جوشی کے ساتھ آگے بڑھ کر استقبال کر رہے ہوں گے کہ دین اسلام کو بچانے کے لیے وقت کے فرعونوں کے سامنے کلمہ ٔ حق بلند کرنے والا امت مسلمہ کا عظیم سپہ سالار اپنے مشن میں کامیاب و کامران ٹھیرا اور اس عظیم مجاہد نے وقت کی سپر پاور اور کفر کی قوتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ ابو عبیدہ شہید کا مشن کل بھی جاری تھا اور آج بھی جاری ہے۔ زمین پر بوئے جانے والے ابو عبیدہ کے بیج سے ہزاروں نئے ابو عبیدہ پیدا ہوں گے اور شہادتوں کا قافلہ رواں دواں رہے گا۔ قبلہ اوّل کے ساتھ ساتھ فلسطین بھی جلد آزاد ہوگا اور امت مسلمہ سرخرو ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔