امریکا میں ہزاروں افراد کی ٹھنڈے پانی میں ڈبکی، نیا عالمی ریکارڈ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا میں ایک منفرد اور دلچسپ منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ہزاروں افراد نے ایک ساتھ انتہائی ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس غیر معمولی سرگرمی نے نہ صرف شرکا بلکہ دیکھنے والوں کی بھی توجہ حاصل کی اور سرد موسم کے باوجود لوگوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اس ایونٹ میں حصہ لیا۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ کا اہتمام برچ بے چیمبر آف کامرس، بلین برچ بے پارک اینڈ ریکریئشن ڈسٹرکٹ اور بیلنگھم واٹکام کاؤنٹی ٹورازم نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس کا مقصد ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ افراد کے ٹھنڈے پانی میں جانے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا، جسے عام طور پر پولر بیئر ڈِپ کہا جاتا ہے۔
ایونٹ کے منتظمین کے مطابق جب اس ریکارڈ کے لیے کوشش کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت گینیز ورلڈ ریکارڈ 2461 افراد کا تھا۔ بعد ازاں ناروے میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران 3134 افراد نے ایک ساتھ ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لگا کر یہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا تھا، جس کے بعد امریکا میں اس سے بھی بڑا ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
حالیہ تقریب میں مجموعی طور پر 6213 افراد نے رجسٹریشن کروائی، جو اس ایونٹ کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ پیسیفک ملٹی اسپورٹس کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی کہ ان میں سے 4917 افراد واقعی ایک ہی وقت میں پانی میں داخل ہوئے۔ سرد موسم اور یخ بستہ پانی کے باوجود شرکا نے ہمت اور جذبے کا مظاہرہ کیا اور اجتماعی طور پر ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ کی نمائندہ برٹنی ڈن نے بتایا کہ ادارہ جمع کرائے گئے تمام اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق گنتی کے دوران کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے حتمی تصدیق میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم ابتدائی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کوشش سابقہ ریکارڈز سے کہیں بڑی ہے۔
شرکا کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کا مقصد صرف ریکارڈ بنانا نہیں بلکہ کمیونٹی کو ایک مثبت سرگرمی میں یکجا کرنا اور سرد موسم میں تفریحی انداز میں حصہ لینا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس طرح کی تقریبات مقامی سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام میں یکجہتی اور صحت مند سرگرمیوں کا رجحان بھی بڑھاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘