WE News:
2026-07-24@13:44:43 GMT

لاہور لٹریری فیسٹیول 2026: فکر، ادب اور مکالمے کا عالمی میلہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

لاہور لٹریری فیسٹیول 2026: فکر، ادب اور مکالمے کا عالمی میلہ

لاہور ایک بار پھر علم و ادب کے عالمی مرکز کے طور پر دنیا کی توجہ حاصل کرنے جا رہا ہے۔ لاہور لٹریری فیسٹیول (LLF) کا چودھواں ایڈیشن 6 سے 8 فروری 2026 تک تاریخی الحمراء آرٹس سینٹر میں منعقد ہوگا، جہاں پاکستان اور دنیا بھر سے نامور ادیب، مورخ، دانشور، محقق اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات تین روزہ فکری و ادبی مکالمے میں شریک ہوں گی۔

جنوبی ایشیا کے معتبر ترین ادبی میلوں میں شمار ہونے والا لاہور لٹریری فیسٹیول اپنی روایت کے مطابق اس بار بھی ادب، تاریخ، آثارِ قدیمہ، جغرافیائی سیاست، شاعری، علاقائی زبانوں اور فنونِ لطیفہ جیسے متنوع موضوعات پر سیشنز کا اہتمام کرے گا۔ فیسٹیول کی ڈائریکٹر نصرت جمیل کے مطابق یہ میلہ بدستور عوام کے لیے مفت اور کھلا رہے گا، جو علم اور ثقافتی تبادلے تک سب کی رسائی کے عزم کا اظہار ہے۔

اس سال کے نمایاں بین الاقوامی مقررین میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہرِ مصریات اور امریکن یونیورسٹی قاہرہ کی پروفیسر سلیمہ اکرام شامل ہیں، جو قدیم مصری تاریخ اور آثارِ قدیمہ پر مستند اتھارٹی سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیو کالج سے وابستہ ممتاز اسکالر اور معروف مورخ رابن لین فاکس بھی فیسٹیول میں شریک ہوں گے، جن کی تصانیف الیگزینڈر دی گریٹ اور دی کلاسیکل ورلڈ عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

عالمی سیاسی اور تاریخی تناظر کو اجاگر کرنے کے لیے آسٹریلوی جیو پولیٹیکل ماہر اور مصنف مائیکل پیمبروک کی شرکت بھی متوقع ہے، جو اپنی معروف کتاب Silk, Silver, Opium کے ذریعے تاریخ اور عالمی تجارت کے پیچیدہ رشتوں کو بیان کرتے ہیں۔

پاکستان کے ممتاز ادیبوں میں محسن حامد، محمد حنیف اور کاملہ شمسی فیسٹیول کے مختلف سیشنز میں شرکت کریں گے، جب کہ نئی نسل کے لکھاریوں اور شاعروں کو بھی اظہار کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔ ابھرتی ہوئی مصنفہ عائشہ حسن، جن کا ناول When the Fireflies Dance خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے، بھی پروگرام کا حصہ ہوں گی۔

لسانی تنوع کو فروغ دینے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، لاہور لٹریری فیسٹیول 2026 میں پنجابی، سرائیکی اور پشتو زبانوں میں بھی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جو پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی کا عملی اظہار ہیں۔

2012 میں اپنے قیام کے بعد سے لاہور لٹریری فیسٹیول ایک مضبوط ثقافتی ادارے کے طور پر ابھرا ہے اور لاہور کو یونیسکو سٹی آف لٹریچر کے طور پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ ماضی میں یہ فیسٹیول ادب کے دو نوبیل انعام یافتگان اور متعدد بکر پرائز جیتنے والے مصنفین کی میزبانی کر چکا ہے، جس کے باعث عوامی سطح پر اس کی پذیرائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

لاہور کے علاوہ فیسٹیول کی عالمی توسیع بھی قابلِ ذکر ہے، جہاں نیویارک اور لندن میں منعقد ہونے والے سالانہ ایڈیشنز کے ذریعے پاکستان اور دنیا کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔

فیسٹیول کے ڈائریکٹر رضی احمد کے مطابق، لاہور لٹریری فیسٹیول سرحدوں، نسلوں اور علمی شعبوں سے بالاتر ہو کر مکالمے کو فروغ دینے کا ایک متحرک پلیٹ فارم ہے، جو لاہور کے تاریخی کردار علم، تخلیق اور فکری تبادلے کے مرکز۔۔۔۔۔کو ایک بار پھر زندہ کرتا ہے۔

ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد نواز گوندل نے کہا کہ لاہور لٹریری فیسٹیول کا الحمرا آرٹس کونسل میں انعقاد الحمرا کے ادارہ جاتی وقار اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے۔ الحمرا ایک ایسا ثقافتی ادارہ ہے جہاں ملک کے اہم ادبی اور فکری پروگرام مستقل طور پر منعقد ہوتے رہے ہیں، اور اسی تسلسل میں ایک عالمی سطح کے ادبی میلے کی میزبانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الحمرا آج بھی قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے پروگراموں کے لیے ایک موزوں اور معتبر مقام سمجھا جاتا ہے۔

محمد نواز گوندل نے کہا کہ اس فیسٹیول کے انعقاد سے نہ صرف الحمرا کی تنظیمی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں بلکہ لاہور کی ادبی روایت کو بھی ایک باقاعدہ، منظم اور باوقار پلیٹ فارم میسر آتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے ادیبوں اور دانشوروں کی موجودگی میں الحمرا ایک ایسے مقام کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں سنجیدہ گفتگو، تحقیق اور ادبی تبادلہ ممکن ہے۔ یہ امر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ الحمرا محض تقریبات کا مرکز نہیں بلکہ ایک فعال ثقافتی ادارہ ہے جو معیاری ادبی سرگرمیوں کے انعقاد کی اہلیت رکھتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صبح صادق

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے طور پر کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری

اسلام آباد: پاکستان میں سریے کی قیمت جمعرات 23 جولائی 2026 کو مجموعی طور پر مستحکم رہی، تاہم مختلف برانڈز اور گریڈز کے لحاظ سے معمولی فرق دیکھا گیا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کردہ تازہ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت 258 روپے سے 265 روپے فی کلوگرام کے درمیان برقرار ہے۔

تعمیراتی ماہرین کے مطابق رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں سب سے زیادہ گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوطی اور معیار کے لحاظ سے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سریے کے تازہ ریٹس
سریے کا گریڈ قیمت (روپے فی کلوگرام)
گریڈ 40 260 روپے
گریڈ 60 265 روپے
مارکیٹ ریٹ 258 سے 265 روپے

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سریے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، جن میں خام مال کی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تعمیراتی شعبے کی مجموعی طلب شامل ہیں۔

انہوں نے خریداروں اور بلڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی مقدار میں سریا خریدنے سے قبل مقامی ڈیلرز سے تازہ نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مختلف شہروں، برانڈز اور مینوفیکچررز کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر خام مال یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان میں سریے کی قیمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری