لاہور لٹریری فیسٹیول 2026: فکر، ادب اور مکالمے کا عالمی میلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور ایک بار پھر علم و ادب کے عالمی مرکز کے طور پر دنیا کی توجہ حاصل کرنے جا رہا ہے۔ لاہور لٹریری فیسٹیول (LLF) کا چودھواں ایڈیشن 6 سے 8 فروری 2026 تک تاریخی الحمراء آرٹس سینٹر میں منعقد ہوگا، جہاں پاکستان اور دنیا بھر سے نامور ادیب، مورخ، دانشور، محقق اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات تین روزہ فکری و ادبی مکالمے میں شریک ہوں گی۔
جنوبی ایشیا کے معتبر ترین ادبی میلوں میں شمار ہونے والا لاہور لٹریری فیسٹیول اپنی روایت کے مطابق اس بار بھی ادب، تاریخ، آثارِ قدیمہ، جغرافیائی سیاست، شاعری، علاقائی زبانوں اور فنونِ لطیفہ جیسے متنوع موضوعات پر سیشنز کا اہتمام کرے گا۔ فیسٹیول کی ڈائریکٹر نصرت جمیل کے مطابق یہ میلہ بدستور عوام کے لیے مفت اور کھلا رہے گا، جو علم اور ثقافتی تبادلے تک سب کی رسائی کے عزم کا اظہار ہے۔
اس سال کے نمایاں بین الاقوامی مقررین میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہرِ مصریات اور امریکن یونیورسٹی قاہرہ کی پروفیسر سلیمہ اکرام شامل ہیں، جو قدیم مصری تاریخ اور آثارِ قدیمہ پر مستند اتھارٹی سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیو کالج سے وابستہ ممتاز اسکالر اور معروف مورخ رابن لین فاکس بھی فیسٹیول میں شریک ہوں گے، جن کی تصانیف الیگزینڈر دی گریٹ اور دی کلاسیکل ورلڈ عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
عالمی سیاسی اور تاریخی تناظر کو اجاگر کرنے کے لیے آسٹریلوی جیو پولیٹیکل ماہر اور مصنف مائیکل پیمبروک کی شرکت بھی متوقع ہے، جو اپنی معروف کتاب Silk, Silver, Opium کے ذریعے تاریخ اور عالمی تجارت کے پیچیدہ رشتوں کو بیان کرتے ہیں۔
پاکستان کے ممتاز ادیبوں میں محسن حامد، محمد حنیف اور کاملہ شمسی فیسٹیول کے مختلف سیشنز میں شرکت کریں گے، جب کہ نئی نسل کے لکھاریوں اور شاعروں کو بھی اظہار کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔ ابھرتی ہوئی مصنفہ عائشہ حسن، جن کا ناول When the Fireflies Dance خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے، بھی پروگرام کا حصہ ہوں گی۔
لسانی تنوع کو فروغ دینے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، لاہور لٹریری فیسٹیول 2026 میں پنجابی، سرائیکی اور پشتو زبانوں میں بھی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جو پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی کا عملی اظہار ہیں۔
2012 میں اپنے قیام کے بعد سے لاہور لٹریری فیسٹیول ایک مضبوط ثقافتی ادارے کے طور پر ابھرا ہے اور لاہور کو یونیسکو سٹی آف لٹریچر کے طور پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ ماضی میں یہ فیسٹیول ادب کے دو نوبیل انعام یافتگان اور متعدد بکر پرائز جیتنے والے مصنفین کی میزبانی کر چکا ہے، جس کے باعث عوامی سطح پر اس کی پذیرائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
لاہور کے علاوہ فیسٹیول کی عالمی توسیع بھی قابلِ ذکر ہے، جہاں نیویارک اور لندن میں منعقد ہونے والے سالانہ ایڈیشنز کے ذریعے پاکستان اور دنیا کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
فیسٹیول کے ڈائریکٹر رضی احمد کے مطابق، لاہور لٹریری فیسٹیول سرحدوں، نسلوں اور علمی شعبوں سے بالاتر ہو کر مکالمے کو فروغ دینے کا ایک متحرک پلیٹ فارم ہے، جو لاہور کے تاریخی کردار علم، تخلیق اور فکری تبادلے کے مرکز۔۔۔۔۔کو ایک بار پھر زندہ کرتا ہے۔
ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد نواز گوندل نے کہا کہ لاہور لٹریری فیسٹیول کا الحمرا آرٹس کونسل میں انعقاد الحمرا کے ادارہ جاتی وقار اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے۔ الحمرا ایک ایسا ثقافتی ادارہ ہے جہاں ملک کے اہم ادبی اور فکری پروگرام مستقل طور پر منعقد ہوتے رہے ہیں، اور اسی تسلسل میں ایک عالمی سطح کے ادبی میلے کی میزبانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الحمرا آج بھی قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے پروگراموں کے لیے ایک موزوں اور معتبر مقام سمجھا جاتا ہے۔
محمد نواز گوندل نے کہا کہ اس فیسٹیول کے انعقاد سے نہ صرف الحمرا کی تنظیمی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں بلکہ لاہور کی ادبی روایت کو بھی ایک باقاعدہ، منظم اور باوقار پلیٹ فارم میسر آتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے ادیبوں اور دانشوروں کی موجودگی میں الحمرا ایک ایسے مقام کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں سنجیدہ گفتگو، تحقیق اور ادبی تبادلہ ممکن ہے۔ یہ امر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ الحمرا محض تقریبات کا مرکز نہیں بلکہ ایک فعال ثقافتی ادارہ ہے جو معیاری ادبی سرگرمیوں کے انعقاد کی اہلیت رکھتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔