غزہ، عالمی طاقتیں اور پاکستان کا اصولی امتحان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی ضمیر، بین الاقوامی قانون اور مسلم دنیا کی اجتماعی غیرت کا امتحان بن چکا ہے۔ ایک طرف اسرائیلی جارحیت ہے جو نسل کشی کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، دوسری طرف عالمی طاقتوں کی وہ سفاک سیاست ہے جو مظلوم کو ہی مسئلہ اور ظالم کو حل بنا کر پیش کرتی ہے۔ ایسے میں امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’’اگر حماس نے ہتھیار نہ پھینکے تو کچھ ممالک اپنی فوجیں بھیج کر حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے، اسرائیل کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ محض ایک سیاسی دھمکی نہیں بلکہ ایک کھلا اعلان ہے کہ آئندہ مرحلے میں مسلمانوں کو مسلمانوں کے مقابل کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی نازک موڑ پر جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا مؤقف غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے نہایت واضح، دوٹوک اور جرأت مندانہ انداز میں کہا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی صورت اپنی فوج غزہ نہیں بھیجنی چاہیے، کیونکہ ایسا قدم فلسطینیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے انہیں آپس میں لڑانے کا سبب بنے گا۔ یہ بات وقتی سیاست نہیں بلکہ تاریخ، عالمی طاقتوں کے ماضی کے کردار اور فلسطینی مزاحمت کی حقیقتوں کو سمجھ کر کہی گئی ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ غزہ میں ’’امن‘‘ کے لیے کسی بین الاقوامی یا کثیرالقومی فورس کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عراق، افغانستان، لیبیا اور شام میں یہی فورسز امن لے کر آئی تھیں؟ یا وہاں ریاستیں توڑ کر، معاشرے برباد کر کے اور نسلیں اجاڑ کر چھوڑ دی گئیں؟
حافظ نعیم الرحمن کا موقف بالکل درست ہے کہ غزہ میں کسی بھی بیرونی فوج کی موجودگی مزاحمت اور مفاہمت کے درمیان خلیج کو خونی تصادم میں بدل سکتی ہے۔ اگر ایک مسلم ملک کی فوج، چاہے وہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ آئے، فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے سامنے کھڑی کر دی جائے تو اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہوگا، فلسطینی عوام کو نہیں۔ یہ محض جماعت ِ اسلامی کی رائے نہیں۔ حافظ نعیم کے مطابق حماس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر فلسطینی گروپس اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ میں کسی بیرونی فورس کی تعیناتی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اتفاقِ رائے اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ فلسطینی قیادت اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہے، نہ کہ کسی عالمی ایجنڈے کے تحت۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح نے رکھی تھی، اور فلسطین کے معاملے پر ان کا مؤقف غیر مبہم تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ناجائز، غاصب اور سامراجی منصوبہ قرار دیا اور واضح کہا کہ پاکستان ایسی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا جو ظلم اور جبر پر قائم ہو۔ حافظ نعیم الرحمن اسی قائداعظم کی پالیسی پر قائم رہنے کی بات کرتے ہیں، یعنی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا اور صرف ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا۔ یہ کوئی جذباتی مطالبہ نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے جڑا ہوا اصول ہے۔ اگر پاکستان آج دباؤ، مفاد یا عالمی خوشنودی کی خاطر اس مؤقف سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ صرف فلسطین سے غداری نہیں ہوگی بلکہ اپنی تاریخ اور شناخت سے انکار بھی ہوگا۔
اقوام متحدہ کی حالیہ قرارداد ایک بار پھر اس ادارے کی اخلاقی ناکامی کا ثبوت ہے۔ قرارداد میں جنگ بندی، انسانی امداد اور سیاسی عمل کی بات تو کی گئی، مگر اسرائیلی قبضے کے خاتمے، غزہ کے محاصرے کی مستقل بندش اور فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی ٹھوس، قابل ِ عمل ضمانت نہیں دی گئی۔ یہ وہی اقوام متحدہ ہے جو یوکرین کے معاملے پر گھنٹوں میں قراردادیں پاس کر دیتی ہے، مگر فلسطین کے لیے دہائیوں سے محض تشویش، افسوس اور بیانات پر اکتفا کر رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن بجا طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسی قراردادیں فلسطینیوں کے سیاسی اور انسانی حقوق کا حل پیش نہیں کرتیں، بلکہ مسئلے کو مزید طول دیتی ہیں۔
اصل سوال: پاکستانی فوج وہاں کیا کرے گی؟ یہ سوال جذباتی نہیں، بلکہ انتہائی سنجیدہ ہے۔ اگر پاکستانی فوج غزہ جاتی ہے تو اس کا مینڈیٹ کیا ہوگا؟ کیا وہ اسرائیلی جارحیت روک سکے گی؟ کیا وہ صہیونی قبضے کو چیلنج کرے گی؟ یا اسے ’’امن‘‘ کے نام پر حماس کو غیر مسلح کرنے، مزاحمت کو دبانے اور فلسطینیوں کو کنٹرول کرنے کا کام سونپا جائے گا؟ اگر آخری صورت ہے تو یہ پاکستان کو ایک خطرناک اخلاقی اور سیاسی دلدل میں دھکیل دے گی۔ پاکستانی فوج کا وقار، اس کی پیشہ ورانہ شناخت اور پاکستان کی عالمی ساکھ all stake پر لگ جائیں گے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر حافظ نعیم الرحمن کا موقف ریاست کے لیے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور اصل منصوبہ: ٹرمپ کے بیان کو محض ایک سابق صدر کی بڑ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دراصل اس منصوبے کا اظہار ہے جس کے تحت اسرائیل کو براہِ راست جنگ سے نکال کر مسلم دنیا کی فوجوں کو آگے لایا جائے، تاکہ:اسرائیل کے ہاتھ خون سے بچ جائیں۔ مزاحمت کو ’’مسلم فورس‘‘ کے ذریعے کچلا جائے۔ امت مسلمہ اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ میں کسی بھی بیرونی فوج کی تعیناتی اسرائیل کے لیے سب سے محفوظ راستہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کا اصل کردار کیا ہونا چاہیے؟ پاکستان کا اصل کردار ٹینک، توپ یا فوجی دستوں میں نہیں بلکہ: دوٹوک سفارتی موقف۔ اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف بین الاقوامی قانونی جدوجہد۔ او آئی سی کو فعال بنانے کی سنجیدہ کوشش۔ فلسطینیوں کی غیر مشروط سیاسی، اخلاقی اور انسانی حمایت میں ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو قائداعظم کی پالیسی، اپنے نظریے اور امت مسلمہ کی توقعات سے جوڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا موقف کسی جماعتی سیاست سے بڑھ کر ریاستی دانش کا آئینہ دار ہے۔ غزہ کا مسئلہ بیرونی فوج سے نہیں، بلکہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے حل ہوگا۔ اگر پاکستان واقعی فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے عسکری جذباتیت نہیں بلکہ اصولی مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان واضح کرے: ہم ظالم کے ساتھ نہیں، مظلوم کے ساتھ ہیں۔ ہم سازش کا حصہ نہیں، حق کی آواز ہیں۔ اور ہم غزہ میں فوج نہیں، قائداعظم کا موقف بھیجیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کا کہ پاکستان اور فلسطین اسرائیل کو کہ غزہ میں نہیں بلکہ کا موقف کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔