واشنگٹن:

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا میں یک طرفہ فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ وینزویلا کے امور چلانے سے گریز کریں۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ صڈر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب 60 فیصد امریکی تنخواہ سے تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں تو انہیں گھر کے بحرانوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، غیرقانونی عسکری جارحیت ختم کریں اور وینزویلا کو تیل کے لیے چلانے کی کوششیں ترک کردیں۔

اس سے قبل انہوں نے وینزویلا میں کارروائی کے خلاف اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، عالمی سلامتی کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے اور اس سے جنگ کے اعلان کرنے کا کانگریس کا واحد حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔

برنی سینڈرز نے کانگریس پر زور دیا کہ فوری طور پر اس کارروائی کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے تاکہ یہ کارروائی ختم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آئین اور قانون کی حکمرانی پر حقارت کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ امریکا کے صدر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر ملک کو جنگ میں دھکیل دے، چاہے وہ مادورو جیسے کرپٹ اور ظالم ڈکٹیٹر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو وینزویلا کے امور چلانے کا حق بھی حاصل نہیں، اس لیے کانگریس کو فوری طور پر ایک بھرپور قرارداد منظور کر کے اس غیر قانونی فوجی کارروائی کو ختم کرنا اور اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں

امریکا کا ‘مونرو ڈاکٹرائن’، ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے میں اس کا حوالہ کیوں دیا؟

امریکی جنرل نے وینزویلا آپریشن کی تفصیلات بتا دیں، 150 طیاروں کی شمولیت کا انکشاف

وینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا، امریکی کارروائی پر نائب صدر کا دو ٹوک اعلان

برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ کے وینزویلا پر حملے سے امریکا اور دنیا کے لیے محفوظ ماحول محدود ہوجائے گا، عالمی قانون کی یہ بدترین خلاف ورزی دنیا کے کسی بھی ملک کو جواز فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کر کے اس کے وسائل پر قبضہ کرے یا حکومت الٹ دے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طاقت کی خوف ناک مثال ہے، جسے پوٹن نے یوکرین پر ظالمانہ حملے کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اکثر کہتی رہی ہےکہ وہ مونرو ڈاکٹرائن کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکا کو اس خطے کے معاملات پر اثر و رسوخ رکھنے کا حق حاصل ہے اور انہوں نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر حاصل کرنے کی کھل کر بات کھل کی ہے جو بدترین سامراجیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام لاطینی امریکا میں امریکی مداخلت کے سیاہ ترین ابواب کی یاد تازہ کر رہا ہے، جس کا یہ ایک خوف ناک حصہ ہے لہٰذا جمہوری دنیا کی جانب سے اس عمل کی مذمت ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے صدر بننے کے لیے امریکا فرسٹ پلیٹ فارم پر انتخابی مہم چلائی اور خود کو امن کے امیدوار کے طور پر پیش کیا۔

برنی سینڈرز نے کہا کہ ایسے وقت میں جب 60 فیصد شہری تنخواہ سے تنخواہ پر گزار رہے ہیں، ہمارا صحت کا نظام زبوں حال ہے، لوگ رہائش کا اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور اے آئی کی وجہ سے لاکھوں ملازمتوں کو خطرات درپیش ہیں تو ایسے میں صدر کو ملک کے اندر موجود بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے اور بیرون ملک اس فوجی مہم کو ختم کرنا چاہیے۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو چلانے میں ناکام ہو رہے ہیں، انہیں وینزویلا چلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹر نے وینزویلا ڈونلڈ ٹرمپ کہ ٹرمپ کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان