دکی میں کوئلہ کان حادثہ: ایک محنت کش جاں بحق، حفاظتی اقدامات کا فقدان 8 برسوں میں 618 جانیں نگل چکا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ضلع دکی کی ایک مقامی کوئلہ کان میں میتھین گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا جس کے باعث ایک کان کن ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کان کنی کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ
چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جو تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد جاں بحق کان کن کی لاش نکال لی گئی۔
دکی کا یہ افسوسناک واقعہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مسلسل حادثات کی ایک اور کڑی ہے جہاں کان کن آئے روز اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 89 کان کن جاں بحق ہوئے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں 7 حادثات پیش آئے جن میں 8 کان کن لقمہ اجل بنے۔
لیبر فیڈریشن کے مطابق بلوچستان میں کانوں میں حادثات کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
سال 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 41، پنجاب میں 14 جبکہ سندھ میں 6 کان کن جاں بحق ہوئے جبکہ سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ریکارڈ کی گئیں۔ مزید برآں گزشتہ 8 برسوں کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر 618 کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے رہنما سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو دم گھٹنے، زہریلی گیس بھرنے، کانوں کی چھتیں گرنے، دھماکوں اور پھیپھڑوں کی خطرناک بیماریوں جیسے شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کان کنوں کی جانوں کا تحفظ ان کا بنیادی حق ہے جسے ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیے: دکی کوئلہ کان حملہ، کانکنی معطل، ہزاروں مزدوروں کے بےروزگار ہونے کا خدشہ
دکی کا حالیہ حادثہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کان کنی اب بھی ایک انتہائی غیر محفوظ شعبہ ہے۔ حفاظتی اقدامات کی کمی، گیس ڈیٹیکشن سسٹمز کا فقدان، غیر مؤثر نگرانی اور کان مالکان کی جانب سے لاپرواہی ایسے حادثات کی بنیادی وجوہات بن چکی ہیں۔
اگرچہ کوئلہ کان کنی صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے تاہم کان کنوں کی جانوں کا مسلسل ضیاع اس شعبے میں فوری اور سنجیدہ اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید حفاظتی ٹیکنالوجی، باقاعدہ معائنہ، سخت قانونی کارروائی اور ریسکیو نظام کی بہتری کے بغیر ان حادثات کو روکنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: فتنۃ الخوارج کی نام نہاد شریعت کا پول کھل گیا، کان کنی کے کاروبار پر 5 فیصد بھتہ طلب
بلوچستان میں کان کنوں کا تحفظ محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ ریاست، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی میں تاخیر مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دکی دکی کان حادثہ کان کنوں کی حفاظت کے اقدامات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دکی دکی کان حادثہ کان کنوں کی حفاظت کے اقدامات میں کوئلہ کان بلوچستان میں کے مطابق کان کنوں کان کنی کان کن
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔