ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سے کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020ء جلد مکمل کرنیکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ کراچی کی بقاء کے ایس ڈی پی 2020ء پر عملدرآمد سے مشروط ہے، تمام ادارے کے ایس ڈی پی 2020ء کے مطابق کام کریں، کے ایس ڈی پی 2020ء سے متصادم فیصلے فوری واپس لیے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ فوری کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020ء پر عملدرآمد کروائیں۔ خط میں کہا گیا کہ کے ایس ڈی پی 2020ء کو 2007ء میں منظور اور 2018ء میں گزٹ کیا گیا، کے ایس ڈی پی 2020ء کراچی کی ترقی کی بنیادی دستاویز ہے، کے ایس ڈی پی 2020ء پر عمل نہ ہونا کراچی کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ طحہ احمد خان کا کہنا تھا کہ کے ایس ڈی پی 2020ء پر عمل نہ ہونا آئینی اور انتظامی ناکامی ہے، کے ایس ڈی پی 2020ء کی موجودگی کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونا سنگین انتظامی غفلت ہے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ کراچی کی بقاء کے ایس ڈی پی 2020ء پر عملدرآمد سے مشروط ہے، تمام ادارے کے ایس ڈی پی 2020ء کے مطابق کام کریں، کے ایس ڈی پی 2020ء سے متصادم فیصلے فوری واپس لیے جائیں۔ مطالبے میں مزید کہا گیا کہ مزید برآں کے ایس ڈی پی 2020ء سے متصادم احکامات فوری منسوخ کیے جائیں، کے ایس ڈی پی 2020 پر عملدرآمد کی واضح ٹائم لائن دی جائے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ فوری پیشرفت رپورٹ جاری کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ایس ڈی پی 2020ء پر کہا گیا کہ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔