کشمیر کے بارے میں قراردادوں پر عملدرآمد اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
حریت ترجمان کا کہنا ہے کہ متنازعہ علاقے میں بھارتی فورسز اور ایجنسیوں کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپے، بلاجواز گرفتاریاں اور بے گناہ لوگوں کو ہراساں کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ علاقے کی بدترین صورتحال پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی سے مظلوم کشمیری عوام پر مظالم ڈھانے اور ریاستی دہشت گردی جاری رکھنے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں اپنے روڈمیپ پر عمل درآمد کرے تاکہ اسے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو چیلنج کرنے پر کشمیریوں کو ان ہی کی سرزمین پر نشانہ بنا رہا ہے جبکہ متنازعہ علاقے میں بھارتی فورسز اور ایجنسیوں کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپے، بلاجواز گرفتاریاں اور بے گناہ لوگوں کو ہراساں کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تباہی پھیلانے کے باوجود بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی کی شمع کو روشن رکھا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی آنکھیں کھولے اور دیکھے کہ محصور کشمیریوں کو بھارتی قبضے میں کس طرح کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے اور بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کشمیری عوام کی امنگوں کا احترام کرے اور انہیں بغیر کسی تاخیر کے ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔