جسٹس محسن اختر کیانی کا ہائیکورٹ کے پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق بڑا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق بڑا حکم جاری کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا، عدالت نے پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق وکیل سے استفسار کیا، وکیل نے پریکٹیس ایند پروسیجر رولزکی تفصیلات سے متعلق اظہار لاعلمی کیا۔
وکیل درخواستگزار نے کہا کہ پریکٹس ایند پروسیجر رولز حاصل کرنے کے لیے درخواست دے رہے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ہائیکورٹ کے وہ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ میں جج ہوں مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے، فل کورٹ نے رولز منظور کیے لیکن باہر نہیں نکالے گئے، پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ رجسٹرار کو لکھ دیں پریکٹیس اینڈ پروسیجر رولز فراہم کرنے کے لیے، وکیل درخواستگزار نے کہا کہ وزارت قانون سے معلوم کیا ہے اب میں درخواست بھی لکھوں گا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ درخواست لکھیں تین مہینے لگ جائیں گے، یہاں کوئی ڈاکومنٹ ہو تو رجسڑار وہ تین تین ماہ تک فراہم نہیں کرتا، 48 گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت کردی ہے، اگر حکم پر عمل نہیں ہوا تو آپ کرمنل پروسیجر فائل کردینا میں رجسٹرار کو بلا لوں گا۔
وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کردیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس نے ریمارکس دیے کہ 29 کو پتہ نہیں میں یہاں ہوں گا یا نہیں ، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے نے ریمارکس دیے کہ
پڑھیں:
پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی میں ملازمتوں کا اعلان، درخواست دینے کا طریقہ کار جانیے
ویب ڈیسک : پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پی ای آئی ایم اے) کی جانب سے مختلف شعبوں میں تجربہ کار اور قابل پیشہ ور افراد کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر 31 اہم اسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے درکار تعلیمی قابلیت اور درخواست دینے کا طریقہ کار بھی سامنے آگیا ۔
پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ایڈمنسٹریشن، فنانس، تعلیم، آئی ٹی اور ریسرچ سمیت مختلف محکموں میں عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ان ملازمتوں کے لیے ماہانہ تنخواہیں 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہیں۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
ہیومن ریسورس اینڈ ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرام، پارٹنرشپ اینڈ کولیبریشن، اکیڈمکس اینڈ ریسرچ، اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کے شعبوں کے لیے ڈائریکٹرز مطلوب ہیں۔ ان عہدوں کے لیے عمر کی حد 35 سے 55 سال، کم از کم 16 سالہ تعلیم اور 10 سال کا متعلقہ تجربہ لازمی ہے اور ماہانہ تنخواہ 7,50,000 روپے تک ہوگی۔
چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ، اور ڈیٹا انجینئر کی ایک ایک اسامی خالی ہے، چیف آڈٹ آفیسر کے لیے عمر کی حد 30 سے 45 سال جبکہ ڈیٹا اینالسٹ اور انجینئر کے لیے 28 سے 45 سال ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ اور مانیٹرنگ سمیت دیگر شعبوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں ، جن کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے ہے۔ تاہم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ ہوگی۔ ان کے لیے 16 سالہ تعلیم اور 3 سال کا تجربہ درکار ہے۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
پیمانے کے تحت 7 اسسٹنٹ اور 2 اسسٹنٹ آئی ٹی کی اسامیاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں، جن کے لیے کم از کم 1 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔
درکار تعلیمی قابلیت
امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ اداروں کی ڈگریاں ہونی چاہئیں، جن میں مطلوبہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس اینڈ اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، ڈیٹا سائنس، کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ
درخواست دینے کا طریقہ کار
خواہش مند امیدوار پنجاب حکومت کے آفیشل جاب پورٹل jobs.punjab.gov.pk پر جا کر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، بذریعہ ڈاک، ای میل، کوریئر سے جمع کروائی جانے والی درخواستیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
پہلے سے سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے امیدواروں کو اپنے محکمے کے توسط سے اپلائی کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر این او سی فراہم کرنا ہوگا۔
: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت