باور کرایا گیا این آئی آر سی کی سربراہی بطور معاوضہ دی گئی تو استعفیٰ دے دیا، جسٹس (ر) شوکت صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج اور قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی) کے مستعفی چیئرمین جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ کمیشن کی چیئرمین شپ چیلنج سمجھ کر قبول کی تھی لیکن جس دن یہ باور کرایا گیا کہ چیئرمین شپ بطور معاوضہ دی گئی تو اسی لمحے استعفی دے دیا کیونکہ مجھے کوئی فیور نہیں چاہیے۔
این آئی آر سی کے مستعفی چیئرمین جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ وزیر قانون نے انہیں نومبر 2024 میں چیئرمین این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کا کہا تو انہوں نے دو مرتبہ انکار کیا مگر پھر چیلنج سمجھ کر ذمہ داری قبول کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس ادارے کو بند کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا تاہم 4 دسمبر 2024 کو چارج سنبھالا تو اس وقت این آئی آر سی میں زیر التوا کیسز کی تعداد 5 ہزار 380 تھی تاہم 31 دسمبر 2025 تک 5 ہزار 261 مقدمات نمٹائے۔
انہوں نے کہا کہ اس ایک سال کے دوران 5 ہزار 522 نئے کیسز بھی دائر ہوئے جس کی وجہ لوگوں کا اس ادارے پر اعتماد بڑھنا تھا۔
جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شوکت صدیقی نے اچانک استعفی کیوں دے دیا؟ میں اپنے دل سے فیصلے کرتا ہوں، دماغ سے نہیں اور جب مجھے یہ باور کرایا گیا کہ این آئی آر سی کی چیئرمین شپ بطور معاوضہ دی گئی ہے تو اسی لمحے استعفی دے دیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل دے دیا
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :