پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، عمران خان پی ٹی آئی چیئرمین تھے‘ ہیں اور رہیں گے‘ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے لہٰذا خان صاحب چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد نے اسپیکر آفس میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی، مشتمل پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے اپوزیشن لیڈر کی تقرر سے متعلق مطلوبہ دستاویزات اسپیکر آفس کو فراہم کی۔ بیر سٹرگوہر علی خان کی اسپیکر آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائے گا، ہم نے کاغذات جمع کرائے ہیں آج (بدھ) تصدیق ہوجائیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے، خان صاحب چیئرمین تھے،ہیں اور رہیں گے، خان صاحب کے فیصلے کو کوئی سیاسی یا اپیکس کمیٹی تبدیل نہیں کرسکتی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے تمام تر اعتراضات دور کر دیے ہیں اور کاغزات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بدھ تک دستخط کی تصدیق ہو جائے گی اور جمعرات کے دن ہمارے اپوزیشن لیڈر کا اعلان ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن سیشن میں ہمارا اپنا اپوزیشن لیڈر ہو گا، ان کے مقابلے میں کسی نے بھی کاغزات جمع نہیں کرائے، ہماری اسپیکر آفس میں مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر اسپیکر ا فس پی ٹی ا ئی ہیں اور
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔