محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات
اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، عمران خان کے فیصلے کو کوئی سیاسی کمیٹی تبدیل نہیں کر سکتی، بیرسٹر گوہر علی کی میڈیا سے گفتگو
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی سیٹ پر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کیلئے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی ہی متحدہ اپوزیشن کے واحد امیدوار ہوں گے،ا سپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی قانونی ضابطے پورے کر کے اپوزیشن لیڈر کا تقرر کریں گے۔قبل ازیں پی ٹی آئی وفد نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کر کے اپوزیشن لیڈر کیلئے باضابطہ طور پر محمود خان اچکزئی کی نامزدگی جمع کرائی تھی۔سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کرنے والے پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی شامل تھے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔اس موقع پر چیٔرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہو جائے گا، سپیکر ہی سب کچھ ہے، وہ جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہو جائے تو سینیٹ میں بھی ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، بانی پی ٹی آئی چیٔرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، عمران خان کے فیصلے کو کوئی سیاسی کمیٹی تبدیل نہیں کر سکتی۔اپوزیشن لیڈر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہوگیا جس کے بعد محمود خان اچکزئی کے بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ہوگئی جب کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق محمود خان اچکزئی کے علاوہ کسی کے بطور اپوزیشن لیڈر کاغذات جمع نہیں ہوئے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین نے محمود خان اچکزئی کے کاغذات جمع کرائے۔اپوزیشن لیڈر کیلئے جمع کروائے گئے درخواست پر اراکین کی دستخط کی تصدیق کل ہوگی،اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا۔ذرائع نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہی متحدہ اپوزیشن کے واحد امیدوار ہوں گے، اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی یقین دہانی کرادی۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی قانونی ضابطے پورے کرکے اپوزیشن لیڈر کا تقرر کردیں گے۔چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر، ملک عامر ڈوگر پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق مطلوبہ دستاویزات اسپیکر آفس کو فراہم کی۔پی ٹی آئی چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم نے سپریم قومی اسمبلی کی ہدایات کے مطابق تمام تقاضے پورے کرکہ اپڈیٹڈ لسٹ سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر کی صوابدید ہے وہ جب چاہیں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں، میں خود بھی اسپیکر رہا ہوں، ہم نے تمام تقاضے پورے کیے ہیں، امید ہے اس میں اب مزید تاخیر نہیں ہوگی۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ابتک صرف ایک ہی نامزدگی ہوئی ہے، اسپیکر ہی سب کچھ ہے وہ جب چاہے نوٹیفکیشن کرسکتا ہے، جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائے تو سینیٹ میں بھی ہوجائیگا۔بیر سٹرگوہر علی خان کی اسپیکر آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائیگا، ہم نے کاغذات جمع کرائے ہیں کل تک تصدیق ہوجائیگی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے، خان صاحب چیٔرمین تھے،ہیں اور رہیں گے،خان صاحب کے فیصلے کو کوئی سیاسی یا اپیکس کمیٹی تبدیل نہیں کرسکتی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے تمام تر اعتراضات دور کر دیے ہیں اور کاغزات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کل تک دستخط کی تصدیق ہو جائے گی اور جمعرات کے دن ہمارا اپوزیشن لیڈر اناونس ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن سیشن میں ہمارا اپنا اپوزیشن لیڈر ہو گا، ان کے مقابلے میں کسی نے بھی کاغزات جمع نہیں کرائے، ہماری اسپیکر آفس میں مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اسپیکر سردار ایاز صادق کو خط لکھا۔خط میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود خان اچکزئی کو متفقہ طور پر قائد حزبِ اختلاف نامزد کر چکی ہے، اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تاحال خالی ہے، جمہوری روایات کے تحت اپوزیشن کو اپنا قائد منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔خط کے متن کے مطابق قومی اسمبلی رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ 2007 کے رول 39 کے تحت فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہو اپوزیشن لیڈر کی تقرری محمود خان اچکزئی کی سپیکر قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی قومی اسمبلی میں کا کہنا تھا کہ عامر ڈوگر نے کہا کہ کے مطابق تقرری کی ہو جائے نہیں کر ہیں اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔