اسپیکر ایاز صادق کی پی ٹی آئی کو اپوزیشن لیڈر تعیناتی سے متعلق یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کو اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے متعلق یقین دہانی کرادی۔
سردار ایاز صادق نے یقین دہانی کرائی کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ہوجائے گی۔
پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کےلیے اسپیکر کو خط لکھ دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود خان اچکزئی کو متفقہ طور پرقائد حزبِ اختلاف نامزد کرچکی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تاحال خالی ہے، جمہوری روایات کے تحت اپوزیشن کو اپنا قائد منتخب کرنے کا حق حاصل ہے، قومی اسمبلی رولز آف پروسیجر کے تحت فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ پارٹی میں کوئی گروپنگ نہیں ، محمود خان اچکزئی ہی تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر ہیں۔
اس معاملے پر اسد قیصر نے کہا کہ پرامید ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔