طالبان حکومت کی بھارت میں پہلی باضابطہ سفارتی تعیناتی، تعلقات میں بہتری کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
15 اگست 2021 جب افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی تو بھارت نے ابتدائی طور پر اس حکومت کے ساتھ تعلقات میں قدرے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن پھر جولائی 2022 بھارت نے کابل میں مختصر عملے کے ساتھ اپنا سفارتخانہ کھولا جسے اُنہوں نے ٹیکنیکل ٹیم کا نام دیا جس کا کام افغانستان کے حالات کا جائزہ لینا بتایا گیا۔
لیکن اُس کے بعد بھارت اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات مزید بڑھتے چلے گئے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف دونوں ممالک ایک پیج پر نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاک افغان ایک اور لڑائی ناگزیر ہے، بھارت افغانستان تزویراتی الحاق کیا رنگ دکھائے گا؟
گزشتہ برس 9 سے 16 اکتوبر افغان قائم مقام وزیرِخارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہیں بہت بڑا ریسیپشن دیا گیا، اس کے بعد سے افغانستان کے وزیرِ تجارت اور وزیر صحت بھارت کے دورے کر چکے ہیں اور بھارت کے ساتھ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے تجارت کر رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں گو کہ بھارت نے ابھی تک افغان طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا لیکن افغان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا باضابطہ سفارتی نمائندہ چارج ڈی افیئر یا ناظم الاُمور کی صورت میں مقرر کر دیا ہے، یہ تعیناتی 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں کی جانے والی پہلی اہم سفارتی پیش رفت ہے۔
????????????????????–???????????????????????????? ???????????????????????????????????????? ???????????????????????????? ???????????????? ???????????????????????????? ???????? ???????????? ???????????????????????? ????'???????????????????????????? ???????? ????????????????????
Indian media reported that a Taliban diplomat, Mufti Noor Ahmad Noor, has arrived in New Delhi to begin his assignment as the new… pic.
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 10, 2026
افغان سفارت خانے کے مطابق مقرر کیے گئے نمائندے کا نام نور احمد نور ہے، جو افغان وزارت خارجہ سے وابستہ ہیں، سفارت خانے کے مطابق نور احمد نور اس سے قبل متعدد بھارتی حکام سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اس پیشرفت سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان موجود فاصلے سے نئی دہلی سفارتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پیر کے روز افغان سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے افغانستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں 2012 پر لے آیا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہونا پڑےگا، اسحاق ڈار
بھارت کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم افغان سفارت خانے نے نور احمد نور کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں انہیں بھارتی وزارت خارجہ کے سینیئر عہدیدار آنند پرکاش کے ساتھ خوشگوار ماحول میں مصافحہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
تعلقات کی اپ گریڈیشنافغانستان کے لئے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی ایمبیسیڈر آصف درانی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِس بات کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت نے افغان ناظم الامور کے کوائف پہلی بار تسلیم کر لیے ہیں، گو کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس سے پہلے سفیر کی سطح پر تعلقات اپ گریڈ ہو چکے تھے لیکن افغانستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی اپ گریڈیشن اب ہوئی ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
سفارتی تعلقات کی جانب پیشقدمیافغان اُمور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی طاہر خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تعینات ہونے والے خصوصی ایلچی نہیں بلکہ ناظم الامور ہیں، بھارت اور افغانستان بتدریج کئی چیزیں کرتے چلے جا رہے ہیں۔
’جولائی 2022 میں بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ کھولا تھا جو مختصر عملے پر مشتمل تھا جسے وہ ٹیکنکل ٹیم کہا کرتے تھے، جس کے بعد اِن کے تعلقات بڑھتے رہے، ملاقاتیں بھی آنا جانا بھی اور اب یہ اِس پوزیشن پر آئے ہیں کہ افغانستان نے وہاں اپنا ناظم الاُمور مقرر کر دیا ہے۔‘
مزید پڑھیں: افغانستان میں بھارت کے کیا مفادات پوشیدہ ہیں؟
طاہر خان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان باہمی صلاح و مشورے کے بعد قدم اٹھایا گیا ہے کہ جنوری میں ناظم الامور بھیجا جائے گا، ایسے ہونا ہی تھا۔ نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ پہلے ہی طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا، جب سابق حکومت کے سفیر وہاں سے گئے تو پہلے ممبئی قونصلیٹ طالبان کے حوالے کیا گیا اور ساتھ ہی دہلی کا سفارتخانہ بھی۔
’۔۔۔اور اب باقاعدہ ایک ناظم الامور تعیّنات کر دیا گیا ہے، ممکن ہے کسی مرحلے پر دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات اس سطح پر آ جائیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں سفیر تعینات کر دیں جیسا کہ پاکستان کے ساتھ کیا گیا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپ گریڈیشن اسلام اباد آصف درانی افغانستان ٹیکنیکل ٹیم سفارتخانہ سفیر طالبان طاہر خان کابل نئی دہلی ناظم الامور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپ گریڈیشن اسلام اباد افغانستان ٹیکنیکل ٹیم سفارتخانہ سفیر طالبان طاہر خان کابل نئی دہلی ناظم الامور کے درمیان تعلقات افغانستان میں افغانستان کے طالبان حکومت افغان سفارت ناظم الامور سفارت خانے بھارت کے کے مطابق بھارت نے کے ساتھ کے بعد
پڑھیں:
پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کے 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے آغاز پر شاہین نے پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی اوپنر الیکس کیری کو بولڈ کر کے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی اب پاکستان کے صرف تیسرے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں حریف ٹیم کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس انجام دے چکے ہیں۔
A unique feat for Pakistan captain @iShaheenAfridi today ????
➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.co/5mBlUcoG8g
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS | #TakraarKaTime | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/lh6zWbjS25
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026
وسیم اکرم نے سنہ 1993 میں کراچی میں زمبابوے کے خلاف اینڈی فلاور کو پہلی گیند پر آؤٹ کیا تھا جبکہ وقار یونس نے 2001 میں لیڈز میں انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک کو ابتدائی گیند پر پویلین بھیجا تھا۔
پہلی گیند پر وکٹ لینے والے پاکستانی کپتان
وسیم اکرم: سنہ 1993 بمقابلہ زمبابوے (کراچی)
وقار یونس: سنہ 2001 بمقابلہ انگلینڈ (لیڈز)
شاہین شاہ آفریدی: سنہ 2026 بمقابلہ آسٹریلیا (لاہور)
شاہین آفریدی نے صرف ابتدائی وکٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے مزید 2 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 47ویں اوور میں میتھیو کوہنیمن اور 49ویں اوور میں نیتھن ایلس کی وکٹ حاصل کی اور 8 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
مزید پڑھیے: شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
شاہین کے علاوہ حارث رؤف، ابرار احمد اور عرفات منہاس نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا جس کے باعث آسٹریلوی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز تک محدود رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں