15 اگست 2021 جب افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی تو بھارت نے ابتدائی طور پر اس حکومت کے ساتھ تعلقات میں قدرے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن پھر جولائی 2022 بھارت نے کابل میں مختصر عملے کے ساتھ اپنا سفارتخانہ کھولا جسے اُنہوں نے ٹیکنیکل ٹیم کا نام دیا جس کا کام افغانستان کے حالات کا جائزہ لینا بتایا گیا۔

لیکن اُس کے بعد بھارت اور افغان طالبان حکومت کے درمیان تعلقات مزید بڑھتے چلے گئے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف دونوں ممالک ایک پیج پر نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاک افغان ایک اور لڑائی ناگزیر ہے، بھارت افغانستان تزویراتی الحاق کیا رنگ دکھائے گا؟

گزشتہ برس 9 سے 16 اکتوبر افغان قائم مقام وزیرِخارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہیں بہت بڑا ریسیپشن دیا گیا، اس کے بعد سے افغانستان کے وزیرِ تجارت اور وزیر صحت بھارت کے دورے کر چکے ہیں اور بھارت کے ساتھ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے تجارت کر رہے ہیں۔

حالیہ پیش رفت میں گو کہ بھارت نے ابھی تک افغان طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا لیکن افغان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا باضابطہ سفارتی نمائندہ چارج ڈی افیئر یا ناظم الاُمور کی صورت میں مقرر کر دیا ہے، یہ تعیناتی 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں کی جانے والی پہلی اہم سفارتی پیش رفت ہے۔

????????????????????–???????????????????????????? ???????????????????????????????????????? ???????????????????????????? ???????????????? ???????????????????????????? ???????? ???????????? ???????????????????????? ????'???????????????????????????? ???????? ????????????????????
Indian media reported that a Taliban diplomat, Mufti Noor Ahmad Noor, has arrived in New Delhi to begin his assignment as the new… pic.

twitter.com/ykT1oTVxCW

— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 10, 2026

افغان سفارت خانے کے مطابق مقرر کیے گئے نمائندے کا نام نور احمد نور ہے، جو افغان وزارت خارجہ سے وابستہ ہیں، سفارت خانے کے مطابق نور احمد نور اس سے قبل متعدد بھارتی حکام سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس پیشرفت سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان موجود فاصلے سے نئی دہلی سفارتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پیر کے روز افغان سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے افغانستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں چائے کا کپ ہمیں 2012 پر لے آیا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہونا پڑےگا، اسحاق ڈار

بھارت کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم افغان سفارت خانے نے نور احمد نور کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں انہیں بھارتی وزارت خارجہ کے سینیئر عہدیدار آنند پرکاش کے ساتھ خوشگوار ماحول میں مصافحہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تعلقات کی اپ گریڈیشن

افغانستان کے لئے پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی ایمبیسیڈر آصف درانی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِس بات کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت نے افغان ناظم الامور کے کوائف پہلی بار تسلیم کر لیے ہیں، گو کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس سے پہلے سفیر کی سطح پر تعلقات اپ گریڈ ہو چکے تھے لیکن افغانستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی اپ گریڈیشن اب ہوئی ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

سفارتی تعلقات کی جانب پیشقدمی

افغان اُمور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی طاہر خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تعینات ہونے والے خصوصی ایلچی نہیں بلکہ ناظم الامور ہیں، بھارت اور افغانستان بتدریج کئی چیزیں کرتے چلے جا رہے ہیں۔

’جولائی 2022 میں بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ کھولا تھا جو مختصر عملے پر مشتمل تھا جسے وہ ٹیکنکل ٹیم کہا کرتے تھے، جس کے بعد اِن کے تعلقات بڑھتے رہے، ملاقاتیں بھی آنا جانا بھی اور اب یہ اِس پوزیشن پر آئے ہیں کہ افغانستان نے وہاں اپنا ناظم الاُمور مقرر کر دیا ہے۔‘

مزید پڑھیں: افغانستان میں بھارت کے کیا مفادات پوشیدہ ہیں؟

طاہر خان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان باہمی صلاح و مشورے کے بعد قدم اٹھایا گیا ہے کہ جنوری میں ناظم الامور بھیجا جائے گا، ایسے ہونا ہی تھا۔ نئی دہلی میں افغان سفارتخانہ پہلے ہی طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا، جب سابق حکومت کے سفیر وہاں سے گئے تو پہلے ممبئی قونصلیٹ طالبان کے حوالے کیا گیا اور ساتھ ہی دہلی کا سفارتخانہ بھی۔

’۔۔۔اور اب باقاعدہ ایک ناظم الامور تعیّنات کر دیا گیا ہے، ممکن ہے کسی مرحلے پر دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات اس سطح پر آ جائیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں سفیر تعینات کر دیں جیسا کہ پاکستان کے ساتھ کیا گیا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپ گریڈیشن اسلام اباد آصف درانی افغانستان ٹیکنیکل ٹیم سفارتخانہ سفیر طالبان طاہر خان کابل نئی دہلی ناظم الامور

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپ گریڈیشن اسلام اباد افغانستان ٹیکنیکل ٹیم سفارتخانہ سفیر طالبان طاہر خان کابل نئی دہلی ناظم الامور کے درمیان تعلقات افغانستان میں افغانستان کے طالبان حکومت افغان سفارت ناظم الامور سفارت خانے بھارت کے کے مطابق بھارت نے کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار