Express News:
2026-07-24@09:06:09 GMT

2026کے نئے سیاسی اور معاشی امکانات

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

حکمرانوں کے بقول حکمرانی کا نظام بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ ان کے بقول نہ صرف داخلی بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی ہمیں نہ صرف بڑی کامیابیاں ملی ہیں بلکہ ان کی ہر سطح پر پزیرائی کی جارہی ہے ۔اسی بنیاد پر حکمران طبقہ کے بقول نیا برس 2026قومی سیاست اور معیشت کے لیے نئے مثبت امکانات کو پیدا کرے گا اور یہ برس پچھلے برس2025سے عملا مختلف بھی ہوگا اور بہتر بھی ہوگا۔

حکمرانوں کا یہ بیانیہ اپنی جگہ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو بھی حکومت ہوتی ہے، یہ اس کی مجبوری یا مصلحت ہوتی ہے کہ وہ یہ ہی کہے کہ ہم اچھے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔اس لیے اگر آج کی حکومت بھی ہمیں یعنی عوام کو یہ بتاتی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے تو یہ کوئی انہونی یا نئی بات نہیں ہے۔لیکن اگر ہم مجموعی طور پر عوام کے حالات اور روزگار کے مواقع کی طرف دیکھیں تو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ حکومت کو معاشی میدان میں تاحال پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

اگرچہ ہمیں سیاسی پنڈتوں کی اپنی اپنی بانسریاں سنائی دے رہی ہیں، کوئی کسی ونڈر بوائے کی تلاش میں ہے اور تو کوئی کہتا ہے کہ کسی ونڈر بوائے کی تلاش نہیں ہورہی ہے اور موجودہ سیاسی بندوبست ج باہمی اتفاق رائے سے خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا ہے، اسے کسی داخلی بحران کا سامنا نہیں ۔

اس خیال کے حاملین کے بقول حکمران سیاسی قیادت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تعلقات بھی مثالی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی ضرورتوں سے جڑے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض پنڈتوں کے بقول وزیر اعظم شہباز شریف ہی اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے ونڈر بوائے ہیں اور ان کی موجودگی میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔ویسے بھی حکمران طبقہ نے اپنے ہاتھ سیاسی اور قانونی بنیادوں پر اتنے مضبوط کرلیے ہیں کہ ان کو اپنے سیاسی اور قانونی مخالفین سے کوئی بڑا خطرہ نہیں اور نہ ہی ان کے مخالفین اس حالت میں ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک پیدا کرسکیں ۔

اسی طرح اس حکومت کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی یا بانی پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ دو مخالف سمت میں کھڑے ہیں اور ان کے درمیا ن ٹکراو ہی بنیادی طور پر اس حکومت کی بڑی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔اسی بنیاد پر پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ کا ٹکراو حکومت کے حق میں جاتا ہے ۔لیکن ونڈر بوائے کی تلاش والا گروہ یا طبقہ بضد ہے کہ نہیں کچھ نہ کچھ ہورہا ہے، دال میں کالا ہے۔ تحریک انصاف والے اس پر خوش اس لیے ہیں کہ چلو موجودہ سیٹ میں اختلاف کی باتیں تو سننے کو مل رہی ہیں۔ایسے صاحبان فرماتے ہیں کہ بعض اوقات حکومت ،حکمران یا طاقت ور طبقے کو خطرہ باہر سے کم اور خود اپنے اندر یعنی حکومت کی اپنی کمز وریوں یا ان کی اختیار کی جانے والی سیاسی یا غیر سیاسی حکمت عملیوں سے زیادہ ہوتا ہے ۔

حکمران بظاہر خوش نظر آتے ہیں لیکن اسی خوشی کے درمیان ان میں موجود سیاسی بے چینی یا سیاسی ہیجانی یا غیر یقینی کیفیت زیادہ بالادست نظر آتی ہے ۔ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس سب اچھے کے کھیل میں کچھ کردار ایسے ہیں جو ہمارے خلاف سازشوں کا کھیل کھیلنے کی کوشش یا حکومت کو غیر مستحکم کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔حکومت کے ذہن میں یہ بات پریشانی پیدا کرتی ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جو کبھی ونڈر بوائے ،کبھی قومی حکومت یا کبھی وزیر اعظم کی تبدیلی یا حکومت خطرے میں ہے کی چہ مگوئیاں کررہے ہیں یا معیشت کی بہتری کے لیے وزیر اعظم کو آخری موقع کی خبروں کو بڑی خبروں کی زینت بناکر حکومت مخالفین کو خوشی کے لمحات فراہم کررہے ہیں۔

یہ باتیں محض حکومت کے سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں بلکہ بااثر صحافیوں کا ایک طبقہ بھی ایسی خبروں اور تجزیوں کو بنیاد بنا کر پیش بھی کرتا ہے اور نئی مہم جوئی کی خبریں بھی دیتا ہے۔ عمومی طور پر اس طرز کی خبریں سامنے لانا خود یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خبریں سامنے والے اور خبریں دینے والے کیا چاہتے ہیں۔وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ طاقت کے مراکز میں مختلف نوعیت کی سیاسی کچھڑی پک رہی ہے یا موجودہ حالات کے بارے میں مختلف نوعیت کو بنیاد بنا کر نئے آپشن پر رنگ بھرے جارہے ہیں یا ان خبروں کی بنیاد پر سیاسی ٹمپریچر کو جانچنا بھی ہوتا ہے ۔ اس لیے عوام اور خواص دونوں میں یہ ابہام پیدا کرنے کا جتن ہورہا ہے کہ جہاں یہ ساری باتیں غلط ہیں، وہیں ان میں کسی نہ کسی سطح پر کچھ سچائی کے پہلو بھی ہوتے ہیں۔

 ہمیں خود توکسی بڑی حکومتی تبدیلی کے امکانات محدود نظر آتے ہیں کیونکہ فی الحال اس نظام کو چلانے کا کوئی متبادل آپشن نہیں اور اگر کسی بھی سطح پر ایسی مہم جوئی یا ایڈونچر سوچا بھی جارہا ہے تو وہ بھی بہتری کی صورت میں کوئی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔لیکن 2026کے آغاز سے قبل ہمیں یہ بڑا اعتراف ہر سطح پر کرنا ہوگا کہ پاکستان کو سیاسی ، معاشی اور سیکیورٹی کے تناظر میں کئی چیلنجز کا سامنا ضرور ہے ۔حکومت نے جو بھی سیاسی اور معاشی حکمت عملی 2024-25میں ترتیب دی تھی یا جس کی بنیاد پر توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ پوری تو ہوئی ہیں لیکن شاید پوری طرح پوری نہیں ہوئی ہیں۔ ۔اسی بنیاد پر کچھ لوگ یہ تاثر پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ نہ تو سیاسی نظام چل رہا ہے اور نہ ہی معیشت کی گاڑی اپنی مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ۔

 ادھر کراس بارڈر دہشت گردی یا بھارت اور افغان پاکستان مخالف پراکسی جنگ نے ہماری مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے۔تیسر طرف آئی ایم ایف کی بڑھتی ہوئی شرائط اور سخت فیصلوں کی بڑی قیمت بھی مجموعی سطح پر معیشت میں ایک بڑے بوجھ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ معاشی حقایق عوام کی مالی مشکلات میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

اصل‘ سوال یہ ہے کہ کیا ہم 2026میں جو سیاسی ٹکراؤ ،تناویا معیشت سے جڑے معاملات دیکھ رہے ہیں، اس میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے کو مل سکے گی؟بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے ہم سب سیاسی یا غیر سیاسی فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی لنگوٹ کس لیا ہے اور کسی قسم کی مفاہمت یاایک دوسرے کی قبولیت کے خلاف ہیں ۔ایسے میں مفاہمت کی باتیں محض دیوانے کا خواب لگتی ہیں ۔مسئلہ محض سیاست یا کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ مجموعی سیاسی حالات ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیل رہے ہیں ۔

ایسے میں یہ سلسلہ کب تک چل سکے گا اور اس کی کیا فریقین کو کیا قمیت ادا کرنا پڑے گی ،اس کا بھی کوئی موثر جواب بھی کسی کے پاس نہیں ہے ۔سب اپنی اپنی کہانیاں تو ضرور سنارہے ہیں لیکن ان حالات کی خرابی سے کیسے باہر نکلا جائے ، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ یہ حالات واقعی غیر معمولی ہیں اور اس کا ادراک جہاں ہر سطح پر کھلے دل کے ساتھ ہونا چاہیے وہیں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ حالات کی درستگی کے لیے ہمیں کڑوی گولیاں بھی کھانی ہوگی اور بہتری کا عمل غیر معمولی اور سخت گیر اقدامات جو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ونڈر بوائے سیاسی اور بنیاد پر حکومت کے کے بقول ہیں اور اور اس کی طرف رہی ہے میں یہ ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ