لاہور:(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سٹروک مینجمنٹ پروگرام کے تحت فالج کے مریضوں کو صحت مند زندگی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ایک سال کے دوران پنجاب بھر میں 700 سے زائد مریض فالج کے شدید حملے کے بعد بروقت علاج معالجے کے ذریعے دوبارہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کی 70 سالہ شریفہ بی بی گزشتہ دوپہر فالج کے شدید حملے کا شکار ہوئیں، جس کے بعد جسم کا دائیں حصہ مکمل طور پر مفلوج ہو گیا تھا اور زبان و انگلیاں حرکت کرنے سے قاصر تھیں۔ شریفہ بی بی کو فالج کے حملے کے تین گھنٹے کے اندر سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچایا گیا، جہاں صوبائی سٹروک مینجمنٹ سنٹر میں فوری علاج معالجہ شروع کیا گیا۔

شریفہ بی بی کو فالج کا لوتھڑا توڑنے والے جدید ٹی این کے انجکشن لگائے گئے، جن کی مالیت 3 لاکھ روپے ہے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر یہ انجکشن مریضوں کو مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ انجکشن لگنے کے چند گھنٹوں کے اندر شریفہ بی بی دوبارہ بولنے کے قابل ہو گئیں اور فالج متاثرہ اعضا مکمل طور پر بحال ہوئے۔ شریفہ بی بی کے بیٹے نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کو فالج سے بچانے میں ان کی بڑی مدد ہوئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات کے نتیجے میں پنجاب بھر میں 14 مراکز پر سٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ لاہور میں سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، میو ہسپتال، نشتر ہسپتال ملتان اور شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں یہ مراکز فعال ہیں۔ دیگر اضلاع جیسے راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، ڈی جی خان اور لیہ میں بھی سٹروک سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ یہ سہولیات دیگر اضلاع تک بھی وسیع کی جائیں تاکہ پنجاب کے ہر شہری کو معیاری اور مفت علاج معالجہ فراہم کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ فالج کے مریض اگر چار گھنٹوں کے اندر متعلقہ ہسپتال پہنچ جائیں تو نہ صرف ان کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ عمر بھر کی معذوری سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے ہر شہری کی صحت ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار

پشاور:

حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم