سٹروک مینجمنٹ پروگرام، فالج کے مریضوں کیلئے صحتمند زندگی کی نوید
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سٹروک مینجمنٹ پروگرام کے تحت فالج کے مریضوں کو صحت مند زندگی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ایک سال کے دوران پنجاب بھر میں 700 سے زائد مریض فالج کے شدید حملے کے بعد بروقت علاج معالجے کے ذریعے دوبارہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کی 70 سالہ شریفہ بی بی گزشتہ دوپہر فالج کے شدید حملے کا شکار ہوئیں، جس کے بعد جسم کا دائیں حصہ مکمل طور پر مفلوج ہو گیا تھا اور زبان و انگلیاں حرکت کرنے سے قاصر تھیں۔ شریفہ بی بی کو فالج کے حملے کے تین گھنٹے کے اندر سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچایا گیا، جہاں صوبائی سٹروک مینجمنٹ سنٹر میں فوری علاج معالجہ شروع کیا گیا۔
شریفہ بی بی کو فالج کا لوتھڑا توڑنے والے جدید ٹی این کے انجکشن لگائے گئے، جن کی مالیت 3 لاکھ روپے ہے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر یہ انجکشن مریضوں کو مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ انجکشن لگنے کے چند گھنٹوں کے اندر شریفہ بی بی دوبارہ بولنے کے قابل ہو گئیں اور فالج متاثرہ اعضا مکمل طور پر بحال ہوئے۔ شریفہ بی بی کے بیٹے نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کو فالج سے بچانے میں ان کی بڑی مدد ہوئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات کے نتیجے میں پنجاب بھر میں 14 مراکز پر سٹروک مینجمنٹ سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ لاہور میں سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال، میو ہسپتال، نشتر ہسپتال ملتان اور شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں یہ مراکز فعال ہیں۔ دیگر اضلاع جیسے راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، ڈی جی خان اور لیہ میں بھی سٹروک سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ یہ سہولیات دیگر اضلاع تک بھی وسیع کی جائیں تاکہ پنجاب کے ہر شہری کو معیاری اور مفت علاج معالجہ فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ فالج کے مریض اگر چار گھنٹوں کے اندر متعلقہ ہسپتال پہنچ جائیں تو نہ صرف ان کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ عمر بھر کی معذوری سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے ہر شہری کی صحت ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔