پاک قطر جنرل تکافل کا آئی پی او کے ذریعے 420 ملین روپے کےہدف کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاک قطر جنرل تکافل کا اسٹاک مارکیٹ میں آئی پی او کے ذریعے 420 ملین روپے تک حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سلسلے میں آئی پی او کی رجسٹریشن 16 سے 22 جنوری اور بک بلڈنگ کا انعقاد 21 اور 22 جنوری کو کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق آئی پی او کے ذریعے 30 ملین شیئر ز میں سے 22.
بک بلڈ نگ کا آغاز 10 روپے فی حصص سے کیا جائے گا اور بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر حصص کی اسٹر اٹک پر ائس 14 روپے فی شیئر تک بڑھ سکتی ہے۔
پاک قطر جنرل تکافل ایک ایسے وقت میں آئی پی او جاری کر رہی ہے جب کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخی طور پر بلندی کی سطح پر ہے اور کمپنی آئی پی او کے ذریعے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی پاکستان کی پہلی جنرل تکافل (نان لائف) کمپنی ہو گی۔کمپنی نے آئی پی او کے لیے عارف حبیب لمیٹڈ کو کنسلٹنٹ اور بک رنر مقرر کیا ہے۔
یہ لسٹنگ کمپنی کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ادا شدہ سرمایہ (Paid-up Capital) میں اضافہ کر کے نان لائف انشورنس اور تکافل آپریٹر ز کیلئے مقررہ ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا اور مستقبل کی ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مختلف اسٹریٹجک منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا جن میں سافٹ ویئر اور دیگر غیر محسوس اثاثوں میں سرمایہ کاری، ہارڈ ویئر اور انفرااسٹرکچر کی بہتری مارکیٹنگ اور برانڈ ڈیولپمنٹ، ہیومن ریسورسز کی مضبوطی اور نئی برانچز کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ برانچز کی بہتری شامل ہے تا کہ آپریشنل کار کردگی اور کسٹمر تجربے میں اضافہ کیا جا سکے۔
یہ آئی پی او پاک قطر فیملی تکافل کی کامیاب لسٹنگ کے بعد جاری کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے پہلے اسلامک انشورنس سیکٹر کے آئی پی او میں پاک قطر فیملی تکافل نے 901 ملین روپے جمع کیے تھے۔ یہ آئی پی او 18.02 روپے کی اسٹرائک پرائس پر 3.5 گنا زائد سبسکرائب ہو ا جو شریعہ کے مطابق مالیاتی مصنوعات میں سرمایہ کاروں کی مضبوط دلچسپی کی عکاسی ہے۔
پاک قطر جنرل تکافل پاک قطر گروپ کا حصہ ہے۔ یہ پاکستان کا معروف اور اہم اسلامی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا گروپ ہے جسے قطر کے مالیاتی اداروں کی سپورٹ حاصل ہے ۔ کمپنی شریعہ کے مطابق جنرل تکافل مصنوعات کی ایک وسیع رینج پیش کرتی ہے اور سٹنگ کے بعد پی ایس ایکس پر ٹریڈ ہونے والی پہلی ڈیڈیکیٹڈ جزل تکافل کمپنی ہوگی۔
گزشتہ ہفتے سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاک قطر جنرل تکافل کے آئی پی او پر اسپکٹس کی منظوری دی تھی۔2025-26 کے دوران پی ایس ایکس میں آئی پی او سر گرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور پاک قطر جنرل تکافل کا آئی پی او اس مالی سال میں پی ایس ایکس مین بورڈ پر چھٹا آئی پی او ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی پی او کے ذریعے میں آئی پی او سرمایہ کاروں
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔