Islam Times:
2026-06-02@22:30:41 GMT

امریکہ و اسرائیل ایک بار پھر ناکام ہو گئے

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

امریکہ و اسرائیل ایک بار پھر ناکام ہو گئے

اسلام ٹائمز: تہران، تبریز، اصفہان، اراک، کرامان، زاہدان، قم، مشہد غرض جگہ جگہ لاکھوں لوگ اسلامی انقلاب کی حمایت میں نکل آئے۔ کل شام کو جب اس کی ویڈیوز میڈیا پر آنے لگیں تو اہل ایمان کے دلوں کو سکون آیا اور اہل فسق و نفاق کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ویسے جو جھٹکا اسٹار لنک کو بند کرکے مغربی ٹیکنالوجی کو پہنچایا گیا ہے وہ یقینا انہیں یاد رہے گا۔ مغرب و امریکہ کو جلد سمجھ آ جائے گی کہ اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کے مقابلے کے لوگ آگئے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس 

امریکہ اور اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر صورت میں ایران کے درپے ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے کامیابی سے پچاس سال مکمل کرنے کو ہے اور یہ ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپ اندازہ لگائیں صیہونی ریاست کا وزیراعظم عوام کو بھڑکا رہا ہے کہ ریاست پر حملہ آور ہو جائیں۔ مغربی میڈیا کو فالو کرنے والے بڑی حیرانی سے چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ ایک دم جیسے کسی نے کوئی چیز فیڈ کردی ہو اور ہر جگہ ایک ہی طرح کی خبروں اور ٹویٹس کا سیلاب آ گیا۔ اچھے خاصے لوگ پریشان ہوگئے کہ جانے ایران میں کیا ہو رہا ہے۔ بہت سے نام نہاد تجزیہ نگار جو زندگی میں کبھی ایران نہیں گئے اور ایرانی نظام کی الف سے بھی واقف نہیں ہیں وہ بھی بڑے بڑے بھاشن دے رہے تھے اور اپنی طرف سے تو گویا کہانی ختم کا اعلان کر چکے تھے۔ یہ دراصل ان فرقہ پرستوں اور مغرب کے پجاریوں کی خواہشات ہیں جنہیں تجزیہ کا نام دے کر پیش کیا جاتا رہا۔ امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ بڑی باریک بینی سے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہر بار نئے انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس بار امریکی صدر سے بار بار بیان دلوائے گئے کہ بس ہم مدد کے لیے پہنچ ہی رہے ہیں۔ یہ لطیفہ بھی ہوا کہ شاہ کا بیٹا مغرب کے جمہوری معاشرے کا نمائندہ بن کر ایران کے لیے لانچ کر دیا گیا ہے۔ ویسے حالات اتنے بھی برے نہیں ہوئے اور ایرانی قوم کی یاد داشت میں وہ جبر ابھی تک تازہ ہے جو شاہ کی حکومت نے روا رکھا تھا۔

ایران میں بازار بزرگ سے شروع ہونے والا احتجاج بالکل درست تھا، رہبر معظم اور ایران کے صدر نے ان کے احتجاج کو درست قرار دیا اور جہاں جہاں لوگ مہنگائی کی وجہ سے اور کرنسی کے ریٹ کے بار بار گر جانے کی وجہ سے نکلے اور اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا یہ ان کا حق تھا۔ اس لیے ہر جگہ پر انتظامیہ نے نا صرف اس حق کو تسلیم کیا بالکل مظاہرین کو سہولتیں فراہم کی گئیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ان جائز احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں موساد کے ایجنٹ گھس آئے اور انہوں نے ریاستی اداروں کے لوگوں اور بہت سے مقامات پر نہتے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جلاؤ گھیراؤ کرنے لگے اور ان کا خاص ٹارگٹ مساجد اور حسینیہ تھے۔ اسی لیے تہران میں بہت سی مساجد کو شہید کیا گیا اور کتاب اللہ کی بھی توہین کی گئی۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ عام احتجاج کرنے والوں میں شامل ہوکر احتجاج کو ہائی جیک کر لیتے تھے اس لیے اصل احتجاج کرنے والوں نے فوراً احتجاج کی کال ہی واپس لے لی۔ اس کے بعد یہ لوگ رات کے کسی پہر نکلتے اور تھوڑی دیر کے لیے ہنگامہ کرکے غائب ہو جاتے۔ یہ ایسے شقی القلب تھے کہ سوا سو کے قریب ریاستی اہلکاروں کو گولیوں سے شہید کر دیا۔ کرمان میں ایک تین سال کی بچی کو گولی مار کر شہید کر دیا جس کے جنازہ میں لاکھوں کی تعداد میں اہل کرمان نے شرکت کی۔

پراپیگنڈا کس قدر اثر انداز ہوتا ہے اس کا اندازہ عاصمہ شیرازی صاحبہ کے اس کالم سے لگا سکتے ہیں وہ ایران میں تھیں اور اس وقت کی صورتحال بیان کر رہی ہیں جب مغربی میڈیا کی پیروکار دنیا تہران اور ایران کو جلا چکی تھی اور ایران کی قیادت ملک سے باہر جانے کی تیاریوں میں تھی۔ اس وقت کی زمینی صورتحال عاصمہ شیرازی صاحبہ کی زبانی سنیے۔ "تہران پہنچتے ہی پاکستان سے خبر ملی کہ مظاہرین سڑکوں پر ہیں اور حالات کشیدہ، توڑ پھوڑ اور ہنگامے عروج پر ہیں لہٰذا فکر مندی یقینی تھی تاہم یہ اطلاعات ہم نے حیرت سے سُنیں کیونکہ ایئر پورٹ سے ہوٹل تک کا سفر بےحد پرسکون تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی میڈیا جس تواتر سے خبریں دے رہا تھا وہ نہ صرف حیران کُن تھا بلکہ زمینی حقائق سے قطعی مختلف بھی۔ احتجاج کو انتشار جبکہ محاذ آرائی کو لڑائی کی شکل دی جا چُکی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں مظاہرین مشتعل ہوئے، گھیراؤ جلاؤ اور سرکاری املاک بھی نذر آتش کی گئیں مگر جس انداز میں آغاز سے ہی اس احتجاج کو پیش کیا گیا وہ حیران کُن تھا یا شاید کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ۔ اگر ہم ایران میں خود موجود نہ ہوتے اور صورت حال کو بطور صحافی دیکھ نہ رہے ہوتے تو یقیناً پروپیگنڈا مشینری کاشکار ہوچُکے ہوتے۔ بہرحال بعد میں آنے والے حالات نے ہمارے شکوک کو یقین میں بدل دیا۔"

یورپی ممالک سے باقاعدہ بڑی تعداد میں رقوم منتقل کی گئیں اور لوگوں میں تقسیم ہوئیں کہ وہ حکومت کے خلاف جلاو گھیراؤ میں شریک ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی انتظامیہ نے پرامن احتجاج کا پورا موقع دیا کہ یہ لوگ درست ہو جائیں اور ریاست سے ٹکرانے سے رک جائیں۔ پیر کا دن اسلامی جمہوریہ ایران میں عام لوگوں کی حفاظت کرتے شہید ہونے والے ان اہلکاروں کی یاد منانے کے لیے رکھا گیا اور ایک طرح سے ان چند شرپسند عناصر کو عملی جواب دینا بھی مقصود تھا۔ پیر کے دن جس طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی باغیرت مسلم عوام نے متحد ہوکر امریکہ اور اسرائیل کو جواب دیا یقیناً ان تک پہنچ گیا ہے۔ تہران، تبریز، اصفہان، اراک، کرامان، زاہدان، قم، مشہد غرض جگہ جگہ لاکھوں لوگ اسلامی انقلاب کی حمایت میں نکل آئے۔ کل شام کو جب اس کی ویڈیوز میڈیا پر آنے لگیں تو اہل ایمان کے دلوں کو سکون آیا اور اہل فسق و نفاق کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ویسے جو جھٹکا اسٹار لنک کو بند کرکے مغربی ٹیکنالوجی کو پہنچایا گیا ہے وہ یقینا انہیں یاد رہے گا۔ مغرب و امریکہ کو جلد سمجھ آ جائے گی کہ اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کے مقابلے کے لوگ آگئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران ایران میں اور ایران احتجاج کو ایران کے گیا ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان