ایرانی نظام بہت مضبوط ہے، اسرائیلی میڈیا کے تمام جائزے غلط تھے، سابق صیہونی ملٹری انٹیلیجنس چیف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عاموس یادلین نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی صورتحال سے متعلق اسرائیلی میڈیا میں پیش کیے جانے والے اندازے درست نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام توقعات کے برعکس نہایت مضبوط ہے اور اس نے عملی طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عاموس یادلین نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی صورتحال سے متعلق اسرائیلی میڈیا میں پیش کیے جانے والے اندازے درست نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام توقعات کے برعکس نہایت مضبوط ہے اور اس نے عملی طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق، عاموس یادلین نے کہا کہ ایرانی نظام انتہائی مضبوط ہے، اس کے برعکس جو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہاں فارسی زبان میں بات کرنے والے تمام مبصرین تجزیہ کرتے رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اندازے زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے تھے۔ یادلین نے پیر کے روز ایرانیوں کے ملین مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نظام نے ثابت کیا ہے کہ وہ بہت مضبوط ہے۔ خیال رہے کہ ایران میں پیر کے روز ملک بھر میں لاکھوں افراد پر مشتمل عوامی جلوس نکالے گئے، جن میں مسلح ہنگامہ آرائی کی مذمت اور بیرونی مداخلت کو مسترد کیا گیا۔ ان مظاہروں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے عوامی حمایت کا بھرپور اظہار کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ایرانی نظام ہے کہ ایران یادلین نے مضبوط ہے کیا ہے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔