ایران کی جانب سے فضائی حدود کو محدود کیے جانے اور کمرشل پروازوں کے بڑے پیمانے پر رخ موڑنے کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تمام اشارے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی طرف جا رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر صرف اجازت یافتہ بین الاقوامی پروازوں تک محدود کر دیا ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری ابتدائی طور پر چند گھنٹوں کے لیے جاری کی گئی، تاہم اس دوران متعدد ایئرلائنز نے ایران کے اوپر سے گزرنے والی پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں۔

https://twitter.

com/search?q=US%20preparing%20to%20attack%20Iran&src=typed_query&f=top

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ امریکا کا ایران پر حملہ قریب ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی غیر متوقع حکمتِ عملی بھی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے۔

2 یورپی حکام کے مطابق امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کی نوعیت اور وقت واضح نہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے بیان کے بعد یہ اقدام کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

فضائی سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف تنازعات میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات شہری ہوابازی کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ او پی ایس گروپ کے مطابق کئی ایئرلائنز نے ایران کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں، جب کہ بیشتر کیریئرز ایرانی فضائی حدود سے گریز کر رہے ہیں۔

بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی اچانک فضائی حدود بند ہونے سے اس کی بعض بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوں گی۔ روسی ایئرلائن ایرو فلوٹ کی تہران جانے والی ایک پرواز کو فضائی حدود کی بندش کے بعد واپس ماسکو موڑ دیا گیا۔ جرمنی نے بھی اپنی ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود میں داخل نہ ہونے کی نئی ہدایات جاری کی ہیں، جب کہ لفتھانزا، ترکش ایئرلائنز اور فلائی دبئی سمیت کئی کمپنیوں نے ایران کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی فضائی حدود کا خالی ہونا عموماً کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل دیکھا جانے والا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا کوئی فوری فائدہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے دیے گئے بیانات اور سخت انتباہات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی