ایران کی فضائی حدود عارضی طور پر بند، امریکی حملے کے خدشات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایران کی جانب سے فضائی حدود کو محدود کیے جانے اور کمرشل پروازوں کے بڑے پیمانے پر رخ موڑنے کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تمام اشارے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی طرف جا رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر صرف اجازت یافتہ بین الاقوامی پروازوں تک محدود کر دیا ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری ابتدائی طور پر چند گھنٹوں کے لیے جاری کی گئی، تاہم اس دوران متعدد ایئرلائنز نے ایران کے اوپر سے گزرنے والی پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں۔
https://twitter.
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ امریکا کا ایران پر حملہ قریب ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی غیر متوقع حکمتِ عملی بھی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے۔
2 یورپی حکام کے مطابق امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کی نوعیت اور وقت واضح نہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے بیان کے بعد یہ اقدام کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
فضائی سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف تنازعات میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات شہری ہوابازی کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ او پی ایس گروپ کے مطابق کئی ایئرلائنز نے ایران کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں، جب کہ بیشتر کیریئرز ایرانی فضائی حدود سے گریز کر رہے ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی اچانک فضائی حدود بند ہونے سے اس کی بعض بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوں گی۔ روسی ایئرلائن ایرو فلوٹ کی تہران جانے والی ایک پرواز کو فضائی حدود کی بندش کے بعد واپس ماسکو موڑ دیا گیا۔ جرمنی نے بھی اپنی ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود میں داخل نہ ہونے کی نئی ہدایات جاری کی ہیں، جب کہ لفتھانزا، ترکش ایئرلائنز اور فلائی دبئی سمیت کئی کمپنیوں نے ایران کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی فضائی حدود کا خالی ہونا عموماً کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل دیکھا جانے والا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا کوئی فوری فائدہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے دیے گئے بیانات اور سخت انتباہات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔