دوحہ: ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر متعدد ممالک نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے سفارت خانوں اور شہریوں کے لیے الرٹس جاری کر دیے ہیں۔ ایران میں جاری شدید عوامی احتجاج اور امریکا کی ممکنہ مداخلت کے باعث خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں 28 دسمبر سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران امریکا کی انٹری سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں، قطر میں قائم امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید پر تعینات بعض امریکی فوجی افسران کو آج شام تک فوجی اڈہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تین سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے اور اس کا مطلب امریکی فوجیوں کا باضابطہ انخلا نہیں ہے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق یہ محض فوجی پوزیشن میں تبدیلی ہے، کسی ہنگامی انخلا کا حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ العدید ایئربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی سفارتی ذرائع کی وضاحت کے باوجود ایران پر ممکنہ حملے کے خدشات کم نہیں ہوئے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ روز دی گئی دھمکیوں کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، فوج بھی صورتحال پر غور کر رہی ہے اور امریکا کے پاس بہت مضبوط آپشنز موجود ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان