مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں کہاں اور کیوں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
بی بی سی اردو میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسی تناظر میں رائٹرز کے مطابق قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر موجود بعض امریکی اہلکاروں کو عارضی طور پر وہاں سے واپس آنے کا کہا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے تحفظ کے لیے فوجی مداخلت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔
العدید ایئر بیس: امریکی فضائی طاقت کا مرکز
العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے نواح میں واقع ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کا سب سے اہم فضائی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ اڈہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر ہے، جہاں 10 ہزار امریکی فوجی اور جدید جنگی طیارے تعینات ہیں جبکہ برطانوی فوج بھی وقفے وقفے سے موجود رہتی ہے۔
اس اڈے کو امریکا نے دو دہائیاں قبل قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے تحت فعال کیا تھا جبکہ بعد ازاں دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے امریکی موجودگی کو باضابطہ حیثیت دی گئی۔
حالیہ برسوں میں امریکا نے اس اڈے پر اپنی موجودگی کو مزید طویل کرنے کا فیصلہ کیا، جو اس کی اسٹریٹیجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کہاں کہاں موجود ہے؟العدید ایئر بیس کے علاوہ امریکا کی فوجی موجودگی خلیج اور اس کے گرد و نواح میں پھیلی ہوئی ہے۔ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، عراق، شام اور مصر سمیت متعدد ممالک میں امریکی فوجی یا عسکری سہولیات موجود ہیں۔
امریکی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خطے میں کئی ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ عراق اور شام میں یہ فوجی خاص طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں اور مقامی فورسز کی تربیت کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں ان کی موجودگی میزبان حکومتوں کی منظوری سے ہے۔
بحری محاذ پر بھی امریکی موجودگیفضائی اور زمینی اڈوں کے ساتھ ساتھ امریکا نے بحیرۂ احمر، خلیجِ عمان اور بحیرۂ روم میں بھی اپنی بحری قوت تعینات کر رکھی ہے۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ان پانیوں میں گشت کر رہے ہیں، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری عسکری ردِعمل کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
یوں مشرقِ وسطیٰ اس وقت امریکا کی بری، بحری اور فضائی تینوں افواج کی موجودگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
امریکا اتنی دور فوج کیوں رکھتا ہے؟ماہرین کے مطابق امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں مستقل عسکری موجودگی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے اور عالمی تجارت کے اہم بحری راستے یہیں سے گزرتے ہیں۔
تیل کی دریافت کے بعد اس خطے کی اسٹریٹیجک حیثیت مزید بڑھ گئی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی دلچسپی اب محض توانائی تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل کی سلامتی، اتحادی ریاستوں کا دفاع، شدت پسند تنظیموں کا مقابلہ اور ایران جیسے علاقائی حریفوں کو متوازن رکھنا بھی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ایران، روس اور چین کا عنصرامریکا خطے میں اپنی موجودگی کو اس لیے بھی ضروری سمجھتا ہے تاکہ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود رکھا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے نہ صرف فوری عسکری کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں بلکہ کئی مواقع پر بغیر گولی چلائے بھی طاقت کا تاثر قائم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: العدید ایئر بیس امریکی فوجی کی موجودگی امریکا نے امریکا کی کے مطابق کی فوجی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔