وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ندی پل منصوبہ مئی 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر پلاننگ اور ڈویلپمینٹ ڈپارٹمینٹ کی ٹیم نے ملیر ندی پر زیر تعمیر پل کا دورہ کیا جبکہ قائد آباد میں این-5 (مرغی خانہ) پل کا معائنہ بھی کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملیر ندی پل منصوبے کی لاگت 3006.
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبے پر اب تک 61.6 فیصد مالی اخراجات کیے جا چکے ہیں، ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے، منصوبے کو مئی 2026 سے تک مکمل کیا جائے۔
پی اینڈ کی ٹیم نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ منصوبے پر کام کی رفتار اطمینان بخش ہے، سائٹ پر کنکریٹ کی مضبوطی جانچنے کے لیے نان ڈسٹرکٹیو ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ گرڈرز اور ٹرانسم کے سائز کی پیمائش بھی کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ نے ریمپس کے لیے بجری اور ایگریگیٹ بیس کا اسٹاک فوری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مٹیریل کی بروقت دستیابی سے منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔