ٹرمپ منصوبے کے تحت وائٹ ہاؤس نے غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے نام جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں گے جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر کام کریں گے۔
برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے علاوہ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی میں "امن کونسل" کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے وہاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے غزہ میں امن کونسل قائم کرنے کا اعلان کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کونسل عبوری مرحلے میں غزہ کے انتظام، تعمیرِ نو اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کی نگرانی کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے نام جلد جاری کیے جائیں گے۔
غزہ میں قائم ہونے والا یہ بورڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی، انسانی امداد، تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس امریکی صدر ٹرمپ کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔