سائنسدانوں نے کائنات کے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا، خلا میں ننھے سرخ نشان دراصل کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوپن ہیگن:سائنسدانوں نے کائنات کے ایک بڑے اور پراسرار راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں نظر آنے والے ننھے سرخ نشان دراصل انتہائی طاقتور بلیک ہولز ہیں، یہ حیران کن دریافت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے فراہم کردہ تصاویر کی تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے۔
جب سے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے خلا کا مشاہدہ شروع کیا، اس کی تصاویر میں سیکڑوں کی تعداد میں ننھے سرخ نشانات دیکھے گئے تھے، جنہوں نے ماہرینِ فلکیات کو الجھن میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ابتدائی طور پر سائنسدان یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ یہ نشانات آخر کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اب ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ یہ سرخ نشانات دراصل بہت بڑے مگر نوجوان بلیک ہولز ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب یہ بلیک ہولز اپنے اردگرد موجود گیس کو اپنی طرف کھینچتے ہیں تو اس عمل کے دوران شدید حرارت اور طاقتور ریڈی ایشن خارج ہوتی ہے، جس کی روشنی گیس کے بادلوں کو چیرتی ہوئی باہر نکل آتی ہے اور سرخ نشان کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بلیک ہولز تیزی سے پھیل رہے ہوتے ہیں اور ایسا منظر اس سے قبل کبھی مشاہدے میں نہیں آیا تھا، یہ سرخ نشانات سب سے پہلے تقریباً 13 ارب سال پرانی کہکشاؤں میں دیکھے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلیک ہولز کائنات کے ابتدائی دور میں بہت تیزی سے وجود میں آئے۔
ماضی میں ان نشانات کو نئی بننے والی کہکشاؤں سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم نئی تحقیق نے اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے بلیک ہولز کے کردار کو ثابت کر دیا ہے، اس دریافت سے کائنات کی ابتدا اور بلیک ہولز کی تیز رفتار تشکیل کو سمجھنے میں مدد ملے گی،اس اہم تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلیک ہولز
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔