data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملک بھر میں شعبان المعظم کا چاند نظر آ گیا ہے، جس کے بعد اسلامی کیلنڈر کے آٹھویں مہینے شعبان المعظم کا آغاز کل بروز بدھ 21 جنوری 2026 سے ہو جائے گا۔ چاند نظر آنے کی تصدیق کے بعد باقاعدہ طور پر شعبان المعظم کے آغاز کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی رمضان المبارک کی آمد سے متعلق اندازے بھی سامنے آ گئے ہیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اگر شعبان المعظم 29 دنوں پر مشتمل ہوا تو یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026 کو ہوگا، جبکہ اگر شعبان کے 30 دن مکمل ہوئے تو رمضان المبارک کا آغاز 20 فروری 2026 سے متوقع ہے۔ تاہم رمضان المبارک کے آغاز سے متعلق حتمی اعلان حسبِ روایت مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے ہی کیا جائے گا جو شعبان المعظم کے اختتام پر باقاعدہ اجلاس منعقد کر کے ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شہادتوں کی روشنی میں چاند دیکھنے یا نہ دیکھنے کا فیصلہ کرے گی۔

مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے مطابق رمضان المبارک کے چاند کی رویت کے لیے اجلاس میں علما، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے جبکہ زونل اور ضلعی رویتِ ہلال کمیٹیوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے اعلان کے بعد ہی سرکاری سطح پر رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخ کو حتمی شکل دی جائے گی۔

واضح رہے کہ شعبان المعظم اسلامی سال کا نہایت بابرکت مہینہ تصور کیا جاتا ہے، جس میں عبادات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مہینے کو رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے، جس میں روزوں، نوافل، ذکر و اذکار اور دیگر مذہبی اعمال میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، مساجد میں دینی اجتماعات، دروس اور خصوصی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو رمضان المبارک کے لیے روحانی طور پر تیار کیا جا سکے۔

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں مذہبی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مساجد میں تراویح کی تیاری، گھروں میں سحر و افطار کے انتظامات اور بازاروں میں چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت اور متعلقہ ادارے بھی رمضان المبارک کے دوران اشیائے خورونوش کی فراہمی اور قیمتوں کے کنٹرول کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

علماء کرام کا کہنا ہے کہ شعبان المعظم کا مہینہ مسلمانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ رمضان المبارک سے قبل اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی طرف توجہ دیں، اس مہینے میں عبادات کا اہتمام رمضان المبارک میں روحانی فوائد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ہی ملک بھر میں رمضان المبارک کے آغاز سے متعلق تمام سرکاری اور مذہبی سرگرمیوں کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ عوام الناس کو بھی اسی اعلان کی روشنی میں روزوں اور دیگر عبادات کا آغاز کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رمضان المبارک کے شعبان المعظم کا ملک بھر میں ہلال کمیٹی جاتا ہے کے آغاز کے لیے کے بعد

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان