70 سال کی عمر میں پہلا وی لاگ، چند گھنٹوں میں 22 ملین ویوز نے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اتر پردیش کے 70 سالہ ونود کمار نے سوشل میڈیا پر اپنی معصوم اور دل کو چھو لینے والی و لاگ کے ذریعے دھوم مچا دی ہے۔ جب زیادہ تر لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں، ونود کمار نے ثابت کر دیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور نئے تجربات کرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
70 سالہ ونود کمار نے اپنا پہلا ویلاگ بنایا اور اپنی معصومیت اور سچائی سے نہ صرف لوگوں کے دل جیت لیے بلکہ صرف 47 گھنٹوں میں 22.
یہ بھی پڑھیں: والد کے آخری لمحات کا وی لاگ بنانے پر تنقید، بیٹیوں نے اپنے دفاع میں کیا حیران کن وجہ بتائی؟
ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ ستر سال کی عمر میں اپنا پہلا وی لاگ بنا رہا ہوں۔ اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ انہیں و لاگنگ نہیں آتی، پھر بھی وہ کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنا وقت بامعنی طریقے سے گزارنا چاہتے ہیں ان کا کہنا تھا امید ہے آپ لوگوں کو یہ پسند آیا ہو گا۔
View this post on Instagram
A post shared by vinod kumar sharma (@instauncle_9__)
صارفین نے ان کی ویڈیو کو سراہتے ہوئے اس پر مختلف تبصرے کیے۔ ایک صارف نے کہا کہ عمر صرف ایک عدد ہے انکل۔ ایک اور نے کہا کہ لگے رہو انکل ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کوشش جاری رکھیں دادا جی، سیکھنے کی عمر کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جبکہ کئی لوگوں کو انہوں نے اپنے والدین اور دادا دادی کی یاد دلا دی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ ہمارے والدین بھی آپ جیسے ہیں۔ آپ نے دل خوش کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسٹاگرام پہلا وی لاگ ویڈیو وائرل یو ٹیوب یوٹیوب پر پہلا وی لاگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام ویڈیو وائرل یو ٹیوب نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔