کاش اپنا گھر بچوں کا نام نہ کیا ہوتا؛ مرتے دم تک رنج رہے گا؛ گلوکارہ ترنم ناز
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
نہایت سینیئر اور معروف غزل گو کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنے زندگی کے سب سے بڑے دکھ سے مداحوں کو آگاہ کردیا۔
لیجنڈری کلاسیکل گلوکاراؤں میں سے ایک ترنم ناز نے حال ہی میں ٹیلی وژن پر ایک شو میں شرکت کی اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔
ایک سوال کے جواب میں ترنم ناز نے بتایا کہ میں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین لی اور پھر اپنی پسند کے مطابق بہت دل سے اپنا گھر بنایا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ بچے اُس وقت چھوٹے تھے تو میں نے یہ گھر ان کے نام کردیا کہ چاہے میرے نام ہو یا بچوں کے، ایک ہی بات ہے۔
ترنم ناز نے دکھ بھرے انداز میں بتایا کہ جب بچے بڑے ہوگئے اور ان کی شادی کرائی تو وہ گھر میں سے حصہ مانگنے لگے۔
انھوں نے مزید کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت تب مختلف ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں۔
گلوکارہ ترنم ناز نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کردینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا رنج تاحیات رہے گا۔
ترنم ناز نے مزید کہا کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں لیکن اگر گھر میرے ہی نام رہتا تو صورت حال مزید بہتر اور مختلف ہوتی۔
یاد رہے کہ ترنم ناز کو پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں سے کافی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔
انھیں کلاسیکل موسیقی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے پریڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔