بدامنی اور تشدد کی لہریں بدستور بڑھتی چلی جا رہی ہیں،فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سرکاری فورسز قربانیوں کا ذکر تو زور شور سے کرتی ہیں، دہشتگردی بڑھتی چلی جارہی ہے
شادی کی تقریب پر خودکش حملے میں شہید ہونیوالوں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت
مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ شب ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب پر خودکش حملہ میں شہید ہونے والے پانچوں افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم اس المناک واقعہ کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات محض ایک سماجی تقریب پر حملہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی احساسات پہ گہرا اثر ڈال جاتے ہیں جس سے سوسائٹی سسک کے رہ جاتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری ریاستی مشینری اور سرکاری فورسز قیام امن کے لیے اپنی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر تو نہایت زور شور سے کرتے ہیں لیکن عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کے مصداق بدامنی اور تشدد کی لہریں بدستور بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ شہری سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بے پناہ وسائل اور لامحدود اختیارات کے باوجود دن بدن حکومتی رٹ محدود اور گورننس کا بحران کیوں بڑھ رہا ہے؟۔مولانا نے کہا کہ ریاست عوام کے جان و مال اور عزت و ابرو کا تحفظ کرنے کا فرض کیوں نہیں نبھا سکتی۔ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نقل و حمل کی آزادی محدود اور بنیادی انسانی حقوق سلب کر لینے کے باوجود دہشتگردی کیوں شہر کے دروازے پہ دستک دینے لگی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔